خوش رنگ وخوشبو دار,چقندر سستی سبزی کے مہنگے فائدے
ڈاکٹر رحمت اللہ حمیدی قاسمی بنگلور
چقندر کے حیرت انگیز طبی فوائد: خون کی کمی سے دماغی صحت تک
موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی چقندر کا استعمال عام ہو جاتا ہے۔ سلاد سے لے کر اس کے تازہ جوس تک، یہ غذائیت سے بھرپور سبزی ہر عمر کے افراد میں پسند کی جاتی ہے۔ چقندر اُن جڑ والی سبزیوں میں شامل ہے جو نہ صرف اپنے خوبصورت سرخ رنگ اور منفرد ذائقے کے لیے مشہور ہیں بلکہ صحت بخش خصوصیات کے باعث بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
چقندر میں فائبر، فولیٹ، میگنیز، پوٹاشیم، آئرن اور وٹامن سی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہی غذائی اجزاء اسے ایک مفید غذا بناتے ہیں جو جسم کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
خون کی کمی میں مفید
چقندر آئرن سے بھرپور ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیات کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔ یہ خلیات جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ آئرن کی کمی کے باعث خون کی کمی یا انیمیا پیدا ہو سکتا ہے جس سے کمزوری، تھکن اور چکر آنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ چقندر کو روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے آئرن کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کینسر سے بچاؤ میں معاون
چقندر میں بیٹین، فیرولک ایسڈ، روٹین، کیمپفیرول اور کیفیک ایسڈ جیسے قدرتی مرکبات موجود ہوتے ہیں۔ یہ اجزاء اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات رکھتے ہیں جو جسم کو نقصان دہ اثرات سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ بعض مطالعات کے مطابق چقندر کا عرق غیر معمولی خلیات کی نشوونما کو سست کرنے میں معاون ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
جگر اور تلی کی صحت کے لیے فائدہ مند
چقندر کے جوس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن اے، وٹامن بی-6 اور آئرن جگر کو سوزش اور آکسیڈیٹیو تناؤ سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ جسم سے فاسد مادوں کے اخراج کے عمل کو بہتر بنانے میں بھی معاون سمجھے جاتے ہیں۔ روایتی طور پر چقندر کو تلی کی سوزش کم کرنے کے لیے بھی مفید قرار دیا جاتا ہے۔
بعض معالجین کے مطابق چقندر کے پانی میں شہد ملا کر استعمال کرنا یرقان اور تلی کے بعض مسائل میں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اسی طرح صفراوی نالیوں میں رکاوٹ کے بعض معاملات میں بھی اسے مفید سمجھا جاتا ہے۔
دماغی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار
عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے۔ چقندر میں موجود قدرتی نائٹریٹس خون کی نالیوں کو پھیلانے میں مدد دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں دماغ تک خون کی بہتر فراہمی ممکن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چقندر کو دماغی صحت اور یادداشت کے لیے مفید غذا سمجھا جاتا ہے۔
جلدی امراض میں استعمال
جلد کے بعض مسائل جیسے زخم، خارش اور خشکی میں چقندر کا روایتی استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ چقندر کے ٹکڑوں کو پانی اور سرکے میں ابال کر متاثرہ حصے پر لگانے سے آرام ملنے کی روایت موجود ہے۔ اسی مرکب کو سر پر لگانے سے خشکی کم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔
غذائیت سے بھرپور قدرتی غذا
چقندر ایک ایسی سبزی ہے جو نہ صرف ذائقے میں منفرد ہے بلکہ غذائیت کا خزانہ بھی سمجھی جاتی ہے۔ اس میں موجود وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سلاد، جوس یا دیگر غذاؤں کے ساتھ اس کا استعمال روزمرہ خوراک کو مزید مفید بنا سکتا ہے۔
چقندر قدرتی غذائیت سے بھرپور سبزی ہے جو خون کی کمی، دماغی صحت، جگر کی حفاظت اور جلدی مسائل سمیت متعدد شعبوں میں فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ متوازن غذا کے ساتھ اس کا مناسب استعمال صحت مند طرز زندگی کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
دستبرداری: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ کسی بھی بیماری کی تشخیص یا علاج کے لیے مستند ڈاکٹر یا ماہرِ صحت سے مشورہ ضرور کریں۔



