بھوج شالہ-کمال مولا مسجد تنازعہ:مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کمال مولا مسجد کو مندر قرار دیا، نماز پر روک، ہندو فریق کو پوجا کی اجازت
مسلم فریق نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا
دھار 15 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع تاریخی بھوج شالہ تنازعہ پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے جمعہ کے روز اہم فیصلہ سناتے ہوئے بھوج شالہ کمپلیکس کو مندر قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ متنازعہ علاقہ دراصل ایک مندر اور سنسکرت تعلیم کا قدیم مرکز تھا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو سرسوتی دیوی کی مورتی نصب کرنے کی اجازت بھی دی، تاہم آثار قدیمہ سروے آف انڈیا کو اس مقام پر مکمل نگرانی اور تحفظ کا اختیار برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تاریخی شواہد اور آثار قدیمہ کی رپورٹوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مقام پر ہندو عبادت کا سلسلہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ عدالت نے اے ایس آئی کی رپورٹ پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آثار قدیمہ ایک سائنسی عمل ہے اور اس کی بنیاد پر دستیاب نتائج قابل بھروسہ ہیں۔
فیصلے کے بعد ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے کہا کہ عدالت نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ کمپلیکس کے اندر صرف پوجا کی اجازت ہوگی۔ ان کے مطابق عدالت نے اس مقام کو سرسوتی مندر قرار دیا ہے اور نماز کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت نے مسلم فریق کے حق کو تسلیم نہیں کیا، البتہ حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مسلم طبقہ کے لیے متبادل زمین فراہم کرنے پر غور کرے۔
وشنو شنکر جین نے مزید کہا کہ پوری عمارت راجہ بھوج کے دور میں تعمیر ہوئی تھی اور اب عدالت نے عبادت کا حق ہندو فریق کو دے دیا ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ مقام کمال مولا مسجد نہیں ہے۔
دوسری جانب مسلم فریق نے فیصلے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دھار کے شہر قاضی نے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل سلمان خورشید نے دلائل پیش کیے تھے اور اب فیصلے کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب کمال مولا مسجد احاطے میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ سخت سیکورٹی بندوبست کے درمیان نماز پُرامن انداز میں مکمل ہوئی۔ انتظامیہ نے شہر کے حساس علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات کی تھی جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کڑی نگرانی رکھی گئی تاکہ کسی قسم کی افواہ یا اشتعال انگیزی کو روکا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات رہے اور بعض مشتبہ افراد کو احتیاطی طور پر حراست میں بھی لیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ بھوج شالہ تنازعہ میں ہندو، مسلم اور جین طبقہ تینوں فریق شامل ہیں۔ ہندو فریق اسے راجہ بھوج کے دور کا سرسوتی مندر اور گروکل قرار دیتا ہے، جبکہ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ صدیوں پرانی کمال مولا مسجد ہے۔ ادھر جین سماج نے بھی عدالت میں عرضی داخل کر کے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مقام دراصل جین عبادت گاہ اور تعلیمی مرکز تھا۔



