کلکتہ 27جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کلکتہ ہائی کورٹ میں بی جے پی کے ممبراسمبلی نے مقدمہ دائر کرکے مکل رائے کو بنگال اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔کلیانی سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی امبیکا رائے نے عرضی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب #مکل رائے کو بی جے پی نے نامزد نہیں کیا ہے تو پھر انہیں کس بنیاد پر پبلک اکائونٹ کمیٹی کا چیرمین مقرر کیا گیا ہے ۔بی جے پی مکل رائے کو پی اے سی کو #چیئرمین بنانے کے فیصلے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔
بی جے پی کے چھ ممبران اسمبلی نے اسمبلی کی دیگر آٹھ کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔اپوزیشن لیڈرشوبھندو ادھیکاری نے پہلے دعوی کیا تھا کہ بی جے پی نے مکل رائے کو میدان میں نہیں اتارا ہے۔ #اسپیکر نے ترنمول کانگریس کے اشارے پر پی اے سی کے چیئرمین کا عہدہ دیا ہے۔جب کہ روایت ہے حزب اختلاف کے کسی فرد کو پی اے سی کے چیئرمین کا عہدہ دیا جاتا ہے۔
کلیانی سے بی جے پی کے ممبراسمبلی نے اپنی درخواست میں بھی یہی دلیل دی ہے ۔انہوں نے مزید سوال کیا کہ پی اے سی چیئرمین حکومت کے مختلف شعبوں کے اخراجات کے تخمینے پر نظر رکھتے ہیں ۔اگر پی اے سی کے چیئرمین کی تقرری حکمران جماعت کے لیڈر کی ہوتی ہے تو اس میں شفافیت کہاں سے آئے گی ۔
بی جے پی نے کہا تھا کہ وہ ممبرا سمبلی اشوک لہری کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا چاہتی تھی۔ قائم مقام چیف جسٹس راجیش بنڈل اور جسٹس راجیشی بھردواج پر مشتمل #کلکتہ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اس کیس کو قبول کرلیا۔ کیس کی پہلی سماعت 30 جولائی بروز جمعہ کو ہوگی۔
مکل رائے کرشنا نگر شمال سے بی جے پی کے #ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔مگر 11جون کو انہوں نے #ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔اس کے باوجود مکل رائے کو پی اے سی کا چیرمین مقرر کیا گیا ہے ۔



