برین ٹیومر کی علامات، وجوہات اور احتیاطی تدابیر-ڈاکٹر رحمت اللہ حمیدی قاسمی
دماغی رسولی,برین ٹیومر کی چند علامات
برین ٹیومر دماغ میں یا اس کے قریب جمع ہونے والے مادے یا غیر معمولی خلیات کی افزائش کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ دماغ کا کوئی بھی سیل رسولی یا ٹیومر کی شکل اختیار کر سکتا ہے، اسی لیے اس بیماری کی نوعیت کا دارومدار ٹیومر کے سائز، مقام اور قسم پر ہوتا ہے۔ اگر ٹیومر دماغ کے اس حصے میں ہو جو نظر کو کنٹرول کرتا ہے تو دھندلا نظر آنا ایک ممکنہ علامت ہو سکتی ہے۔ تاہم چونکہ یہ دماغ کے کسی بھی حصے میں پیدا ہوسکتا ہے، اس لیے علامات کی درست تشخیص بعض اوقات مشکل ہو جاتی ہے۔
کمزوری یا سستی
موٹر کورٹیکس میں پیدا ہونے والا ٹیومر جسم میں کمزوری یا سستی کا باعث بنتا ہے۔ دماغ کا یہ حصہ جسم کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے، اس لیے یہاں ٹیومر بننے سے دماغ کے سگنلز جسم کے مختلف حصوں تک درست طریقے سے نہیں پہنچ پاتے، جس کے نتیجے میں جسم کے حصے معمول کے مطابق کام نہیں کرتے۔
دماغی دورے
برین ٹیومر کی ایک اہم علامت دورے بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ دورے ٹیومر کی قسم سے وابستہ نہیں ہوتے بلکہ دماغ میں سوزش اور نیورونز کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جسم میں غیر معمولی حرکات شروع ہوجاتی ہیں، جو کبھی پورے جسم کو اور کبھی مخصوص حصوں کو متاثر کرتی ہیں۔
مسلسل سر درد
عام سر درد ہمیشہ برین ٹیومر کی علامت نہیں ہوتا، لیکن اگر درد مسلسل ہو اور کسی علاج سے ختم نہ ہو تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ برین ٹیومر کا درد عموماً وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے، اس لیے ایسے درد کو نظرانداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
بینائی اور سماعت کے مسائل
ٹیومر کی وجہ سے نظر دھندلی ہوسکتی ہے یا آنکھوں کی بینائی متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کانوں میں آواز آنا، کم سنائی دینا یا سماعت میں کمی بھی اس کی ممکنہ علامات میں شامل ہے۔ ایسی صورتحال میں فوری معائنہ ضروری ہے۔
یادداشت میں کمی اور ذہنی تبدیلیاں
دماغ کے فرنٹل لوب پر دباؤ یا سوزش کی وجہ سے شخصیت اور رویے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ مریض ڈپریشن، غصے یا ذہنی الجھن کا شکار ہوسکتا ہے اور اسے باتیں یاد رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
توازن کی خرابی
سیری بیلم میں موجود ٹیومر جسم کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی واضح مثال چلتے وقت جسم کا ایک طرف جھک جانا ہے۔ چونکہ یہ حصہ جسم کے توازن کو برقرار رکھتا ہے، اس لیے یہاں خرابی آنے سے حرکت میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر اور مشورہ
اگر جسم میں مذکورہ علامات بار بار ظاہر ہوں تو فوری طور پر کسی مستند معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بروقت تشخیص نہ صرف بیماری کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ پیچیدگیوں سے بھی بچاتی ہے۔ دماغی صحت کو نظرانداز نہ کریں اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو سنجیدگی سے لیں۔



