سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

ورزش ہر عمر کے افراد کیلئے مفید

فٹنس حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں، بس آغاز کرنے کی دیر ہے۔

یہ ایک عام تاثر ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد ورزش شروع کرنا فائدہ مند نہیں رہتا، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں پہلے کبھی باقاعدہ جسمانی سرگرمی اختیار نہ کرسکا ہو تو بھی وہ کسی بھی مرحلے پر ورزش شروع کرکے اس کے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔

برطانیہ کی معروف University of Birmingham کی ایک تحقیق نے اس خیال کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ بڑھاپے میں بھی جِم جا کر مسلز بنانا ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ وہ تھا جو گزشتہ 20 برس سے ہفتے میں کم از کم دو بار ورزش کررہا تھا، جبکہ دوسرے گروپ میں وہ افراد شامل تھے جو باقاعدہ ورزش نہیں کرتے تھے۔

تحقیق کے دوران شرکاء کو وزن اٹھانے کی تربیت دی گئی اور مختلف سائنسی طریقوں جیسے آئسوٹوپ ٹریسر مشروب اور مسلز بایوپسی کے ذریعے ان کے جسمانی ردعمل کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج حیران کن تھے، کیونکہ ورزش کے بعد دونوں گروپوں کے مسلز میں تقریباً یکساں مقدار میں پروٹین بن رہا تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جسم کسی بھی عمر میں ورزش کے مثبت اثرات قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ محقق لی برین کے مطابق، چاہے کوئی شخص ماضی میں باقاعدگی سے ورزش کرتا رہا ہو یا نہیں، جب بھی وہ ورزش شروع کرے گا، اس کے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ اگرچہ نوجوان افراد میں مسلز بنانے کی رفتار زیادہ ہوتی ہے، لیکن بڑی عمر میں بھی ورزش مسلز کی کمزوری کو سست کرسکتی ہے اور جسم کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارے مسلز پر دباؤ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم خود کو اس دباؤ کے مطابق ڈھالتا ہے۔ مسلز کے اندر موجود اہم پروٹین جیسے ایکٹین اور مایوسین بڑھتے ہیں، جو پٹھوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگرچہ ورزش کے دوران مسلز کے خلیوں میں معمولی نقصان ہوتا ہے، لیکن جسم جب ان کی مرمت کرتا ہے تو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور بڑے ہوجاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بڑھاپے میں بھی ایسے مسلز تیار کیے جاسکتے ہیں جیسے تربیت یافتہ افراد میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی سخت ورزش نہ بھی کرے تو روزمرہ کی سادہ سرگرمیاں جیسے سیڑھیاں چڑھنا بھی صحت کیلئے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرِ ورزش اور اسپورٹس نیوٹریشنسٹ ٹام ہالینڈ کے مطابق، جب مسلز کو چیلنج کیا جاتا ہے تو وہ ردعمل دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی شخص پہلی بار وزن اٹھاتا ہے تو اسے مشکل پیش آتی ہے، لیکن مسلسل مشق کے ذریعے یہی عمل آسان ہوتا جاتا ہے اور جسم مضبوط بنتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد اگر ہفتے میں دو سے تین بار معتدل ورزش کریں تو ان کی ذہنی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور دماغ زیادہ فعال رہتا ہے۔ اس کے علاوہ دل اور پٹھوں کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین آسٹریلیا میں نرم اور متوازن ورزش جیسے Tai Chi کی بھی تجویز دیتے ہیں، جو خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کیلئے مفید ہے۔

مزید یہ کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی سے کئی بیماریوں جیسے Type 2 Diabetes سے بچاؤ ممکن ہے۔ دماغی صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی بھی اپنایا جائے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ورزش کسی مخصوص عمر تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگی کے ہر مرحلے میں فائدہ دیتی ہے۔ اصل چیز مستقل مزاجی ہے۔ جب آپ روزمرہ زندگی میں ورزش کو شامل کر لیتے ہیں تو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button