لندن ، 5نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عموماً مردوں کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے یا انہیں بلیک میل کرنے کی خبریں آتی رہتی ہیں مگر ایسی ایک خبر ترکیہ کے ایک اہم عہدیدار کے حوالے سے سامنے آئی ہے جنہوں نے ایک بلغارین خاتون پر فحش ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ متاثرہ ترک حکومتی عہدیدار جن کی شناخت محمد توپچو کے نام سے کی گئی ہے، خاتون کی طرف سے مبینہ ہراسانی پر عدالت جا پہنچے ہیں۔جمعہ کو ساحلی ریاست مارسین شہر ایردیملی کے میئر محمد توپچو جن کا تعلق حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی [آق] سے ہے، نے اس وقت عدلیہ کا سہارا لیا جب وہ بلغاریہ کی ایک خاتون کے ہاتھوں مبینہ طور پر بلیک میلنگ کا نشانہ بنے۔انہوں نے خاتون پر الزام عا ئد کیا کہ خاتون نے جعلی اور من گھڑت فحش تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شائع کر کے انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے۔
ساحلی ریاست مارسین کے ضلع ایردیملی کے میئر محمد توپچو نے ان تصاویر اور ویڈیوز کی صداقت پر سوال اٹھائے جن میں وہ بلغاریہ کی ایک خاتون کی جانب سے سوشل میڈیا پر شائع ہونے کے بعد سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں رائے عامہ کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ یہ من گھڑت ہیں اور یہ کہ خاتون انہیں بلیک میل کرنا چاہتی تھیں۔اگرچہ مقامی ترک میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ میئر نے بلغاریہ کی خاتون کو تین قسطوں میں 20,000 ترک لیرا (1,074 امریکی ڈالر کے برابر) بھیجے ہیں۔ترکیہ کے میئر کے ساتھ ساتھ میڈیا نے بھی بلغاریہ کی خاتون کا پورا نام نہیں بتایا۔ سب نے اسے صرف آیدان ایس لکھا ہے جس پر توپتشو نے خود کو بدنام کرنے کا الزام لگایا ہے۔



