سرورققومی خبریں

بنگال میں مویشی ذبیحہ پابندی معاملہ، کلکتہ ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

مویشیوں کے ذبیحہ کے لیے ویٹرنری حکام سے “فٹ سرٹیفکیٹ” لازمی

کولکاتا 21 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو مغربی بنگال حکومت کی جانب سے عیدالاضحیٰ سے قبل مویشیوں کے ذبیحہ پر عائد پابندیوں کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اس سال عیدالاضحیٰ 28 مئی کو منائی جائے گی۔

چیف جسٹس سجائے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مختلف فریقین کے دلائل سنے۔ ریاستی حکومت نے مغربی بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس میں بیل، بچھڑے، گائے، بھینس اور دیگر مویشیوں کے ذبیحہ کے لیے ویٹرنری حکام سے “فٹ سرٹیفکیٹ” لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق صرف ایسے جانوروں کے ذبیحہ کی اجازت ہوگی جو 14 برس سے زیادہ عمر کے ہوں یا مستقل طور پر ناکارہ ہوچکے ہوں۔

عرضی گزاروں میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا مترا بھی شامل ہیں۔ ان کی جانب سے سینئر وکیل شاداں فراست نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ 1950 کا قانون مذہبی قربانی کے لیے استثنیٰ فراہم کرتا ہے اور ریاستی حکومت پر لازم تھا کہ وہ اس رعایت کو برقرار رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی روایت کے مطابق قربانی کے لیے صحت مند جانور ضروری ہوتا ہے، جبکہ نئے ضوابط اسی قسم کے جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ بڑے جانور میں سات افراد کی قربانی ہوسکتی ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے زیادہ قابل استطاعت طریقہ ہے، اور اس پہلو کو سپریم کورٹ بھی ماضی میں تسلیم کرچکی ہے۔

ایک دوسرے درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل بکاش بھٹاچاریہ نے عدالت میں دلیل دی کہ 1950 کا قانون کئی دہائیوں سے عملی طور پر نافذ نہیں رہا، اس لیے اب اس کا اطلاق غیر مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ایک روپے کے نان جوڈیشل اسٹامپ کی شرط رکھی گئی ہے، جو اب گردش میں ہی موجود نہیں، جبکہ قانون کے تحت لازمی قرار دیے گئے بیشتر ذبیحہ خانے بھی ریاست میں موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ نوٹیفکیشن 13 مئی کو جاری کیا گیا جبکہ اپیل کے لیے 15 دن کی مہلت دی گئی، اس طرح عیدالاضحیٰ سے قبل قانونی چارہ جوئی کے لیے مؤثر وقت ہی نہیں بچا۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اشوک چکرورتی نے عدالت میں کہا کہ عیدالاضحیٰ عید پر جانوروں کی قربانی ایک “اختیاری” مذہبی عمل ہے اور اسے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت مکمل تحفظ حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا نوٹیفکیشن ہائی کورٹ کے ایک سابق حکم کی بنیاد پر جاری کیا گیا۔

مغربی بنگال حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹیفکیشن عدالتی ہدایت کے مطابق جاری کیا گیا تھا اور اب تک کسی درخواست گزار نے ذبیحہ سرٹیفکیٹ کے لیے باضابطہ درخواست بھی جمع نہیں کرائی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button