بین ریاستی خبریں

وزیراعلیٰ چنی کا باشندگانِ بہار متعلق متنازعہ بیان

بہارریاستی کانگریس ڈِمیج کنٹرول کی اصلاح میں

پٹنہ،16فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جب مختلف پارٹیوں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کے بیان کو بہار اور یوپی والوں کی توہین سے جوڑ کرتنقید کی ،تو بہار کانگریس اب ڈیمیج کنٹرول میں لگ گئی ہے ۔جب پنجاب کے روپ نگر کی انتخابی ریلی میں سی ایم چنی نے بیان دیا تو اس وقت پرینکا گاندھی بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔

اس لیے چنی کے بیان کو کانگریس سے اتفاق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریلی کے بعد پرینکا گاندھی اسٹیج پر آئیں، یہاں پرینکا نے اسٹیج سے اپنے خطاب میں عوام سے کہا کہ پنجاب کے بہنو اور بھائیو، آپ کے سامنے جو ہے اسے اچھی طرح پہچانیں۔ آپ صواب دار ہیں ، اپنی حکومت خود بنائیں۔

جو باہر سے آتے ہیں۔ انہیں باہر کا راستہ سکھائیں کہ آپ کے پنجاب میں پنجابیت کیا ہے۔ یوپی کے، بہار کے ، دہلی کے لو گ یہاں آکر حکومت نہیں کرتے ، یوپی کے بھائیوں کو پنجاب میں پھٹکنے بھی نہیں دینا ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان پر بہارصوبائی کانگریس ڈیمیج کنٹرول کی اصلاح میں لگ گئی ہے۔

بہار کانگریس کے ترجمان اسیت ناتھ تیواری نے کہا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے جو کہا ہے وہ بالکل درست ہے، کیونکہ ہر ریاست میں حکومت ایک ہی ریاست کے لوگوں کی ہونی چاہیے نہ کہ دوسری ریاست کی۔ اس لیے پنجاب میں حکومت صرف پنجابیوں کی ہونی چاہیے۔اس سے قبل سی ایم چنی کے اس بیان کے بعد سیاست گرم ہو گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ چنی کے بیان پر بہار کے وزیر صنعت شاہنواز حسین نے کہا کہ جب چنی بہاریوں کی توہین کر رہے تھے تو پرینکا گاندھی وہاں بیٹھی مسکرا رہی تھیں۔ کانگریس کو اس کا جواب یوپی انتخابات میں ملے گا۔ ہم بہاروالوں کی ایسی توہین برداشت نہیں کریں گے، یہاں لوگوں کو مسلسل روزگار مل رہا ہے، بہاری کسی کے بھروسے پر بیٹھا ہوا نہیں ہے۔

جے ڈی (یو) کے ترجمان ابھیشیک جھا نے کہا کہ نہ صرف ملک میں، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بہار کے لوگوں کی صلاحیت اور ہنر کا ڈنکا بج رہا ہے، بہار علم کی مردم خیز سر زمین ہے، شہنشاہ اشوک، چانکیہ، مہاویر ،شاہ مخدوم ، اور گوتم بدھ کی سرزمین ہے،یہ وہی سرزمین جہاں جمہوریت کی بنیاد رکھی گئی تھی، مہاتما گاندھی نے اپنی تحریک کا آغاز بہار کے چمپارن سے کیا تھا۔

ہندوستان جیسے ایک عظیم جمہوری ملک میں کوئی کہیں بھی جا سکتا ہے، لیکن بہار کے لوگوں کے تئیں وزیراعلیٰ پنجاب کا ایسا بیان انتہائی غیر معقول، مایوس کن اور قابل مذمت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button