کیا آپ جانتے ہیں،گردے خراب ہونے کا سبب-رافع عبدالحنان افضل بنگلور
پیشاب روکنے کی عادت کتنی خطرناک؟ گردوں، مثانے اور پیشاب کی نالی کو ہونے والے نقصانات
بعض اوقات گھر سے باہر ہونے کی وجہ سے یا صاف ستھرے واش روم کی عدم دستیابی کے باعث لوگ پیشاب روکنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کئی افراد کام کی مصروفیت، سفر یا دیگر وجوہات کی بنا پر بھی اس قدرتی ضرورت کو ٹالتے رہتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق اس کے نتائج طویل مدت میں انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
بچوں میں بھی عام مسئلہ
اکثر اسکولوں میں بیت الخلا کی ناقص صفائی بچوں کو واش روم استعمال کرنے سے دور رکھتی ہے۔ بعض بچے اسی وجہ سے صبح کا ناشتہ بھی ترک کر دیتے ہیں تاکہ انہیں اسکول میں واش روم استعمال نہ کرنا پڑے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق ناشتہ نہ کرنا بچوں کی جسمانی نشوونما، ذہنی کارکردگی اور تعلیمی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
گردے پیشاب کیوں بناتے ہیں؟
انسانی گردے خون کو صاف کرنے اور جسم سے فاسد مادوں، اضافی نمکیات اور غیر ضروری کیمیائی اجزا کو خارج کرنے کا اہم کام انجام دیتے ہیں۔ یہ تمام مادے پیشاب کی شکل میں جسم سے باہر نکلتے ہیں۔ جب مثانہ بھر جاتا ہے تو دماغ کو پیغام بھیجتا ہے کہ اب واش روم جانے کی ضرورت ہے۔
اگر اس اشارے کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو جسم کے اخراجی نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور مختلف طبی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
پیشاب کی نالی میں انفیکشن کا خطرہ
طویل وقت تک پیشاب روکنے سے پیشاب کی نالی میں جراثیم کی افزائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیشاب کی نالی کا انفیکشن پیدا ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں جلن، درد، بار بار پیشاب آنے کی شکایت اور بعض اوقات بخار بھی ہو سکتا ہے۔
گردوں کو پہنچنے والا نقصان
طبی ماہرین کے مطابق بار بار پیشاب روکنے کی عادت گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں مثانے میں جمع شدہ پیشاب واپس گردوں کی طرف جانے لگتا ہے، جس سے انفیکشن اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
مثانے اور گردوں کی پتھری
پیشاب کو زیادہ دیر تک روکے رکھنے سے بعض معدنی اجزا مثانے میں جمع ہو سکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی اجزا پتھری کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ گردے اور مثانے کی پتھری شدید درد، پیشاب میں رکاوٹ اور دیگر سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
کیا پیشاب روکنے سے مثانہ مضبوط ہوتا ہے؟
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پیشاب روکنے سے مثانے کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، لیکن طبی تحقیق اس خیال کی تائید نہیں کرتی۔ مسلسل دباؤ کے باعث مثانے کی معمول کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور پیشاب پر قابو رکھنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
کن علامات کو نظر انداز نہ کریں؟
اگر آپ کو درج ذیل علامات کا سامنا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں:
- بار بار پیشاب کی حاجت
- پیشاب کرتے وقت جلن یا درد
- پیشاب پر قابو نہ رہنا
- مثانہ مکمل خالی نہ ہونے کا احساس
- کمر یا پہلو میں درد
- پیشاب میں خون آنا
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مثانہ دماغ کو واش روم جانے کا اشارہ دے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔ پیشاب کو مسلسل روکنے کی عادت گردوں، مثانے اور پیشاب کی نالی کی مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے جسم کے قدرتی اشاروں کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت ردعمل دینا ضروری ہے۔
ڈسکلیمر: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے۔ کسی بھی طبی علامت، بیماری یا علاج کے لیے مستند معالج سے مشورہ ضرور کریں۔



