سرورققومی خبریں

دو دہائیوں بعد بیٹی نے والد کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی

اپنی شناخت جاننا ہر فرد کا بنیادی حق ہے، درخواست گزار کا مؤقف

نئی دہلی 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے ایک ایسے مقدمے کی سماعت شروع کی ہے جس میں ایک نوجوان خاتون نے اپنے مبینہ حیاتیاتی والد کی شناخت ثابت کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی اجازت طلب کی ہے۔ یہ معاملہ تقریباً دو دہائیوں پرانا ہے اور اب بیٹی نے بالغ ہونے کے بعد خود عدالت سے رجوع کیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق اس کی والدہ نے سن 2006 میں عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ایک وکیل کے خلاف دعویٰ دائر کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ مذکورہ شخص نے شادی کا وعدہ کرکے تعلق قائم کیا جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوئیں اور 2003 میں درخواست گزار کی پیدائش ہوئی۔ بعد ازاں اس شخص نے شادی سے انکار کر دیا اور بچے کو تسلیم نہیں کیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2006 میں مبینہ والد نے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم اس نے شرط رکھی تھی کہ ٹیسٹ کے اخراجات درخواست گزار کی والدہ برداشت کریں۔ مالی مشکلات کے باعث وہ اخراجات ادا نہ کر سکیں، جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے درخواست مسترد کر دی۔ بعد میں بمبئی ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس وقت وہ نابالغ تھیں اور اپنی والدہ کی مالی مجبوریوں کے باعث ڈی این اے ٹیسٹ ممکن نہ ہو سکا۔ اب بالغ ہونے کے بعد وہ خود ٹیسٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں اور صرف اپنی والدانہ شناخت کے تعین کی خواہش رکھتی ہیں۔

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس اروند کمار پر مشتمل بنچ نے درخواست پر غور کرتے ہوئے مبینہ والد کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ان سے 18 ستمبر تک جواب طلب کیا ہے۔

درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اس کے نانا مہاراشٹر کے چندرپور ضلع میں ایک کولیری میں ملازم تھے اور 2002 میں کام کے قابل نہیں رہے تھے۔ ملازمت میں ہمدردانہ تقرری کے سلسلے میں قانونی مدد حاصل کرنے کے دوران اس کی والدہ کا مبینہ طور پر مذکورہ وکیل سے رابطہ ہوا تھا۔

ادھر بمبئی ہائی کورٹ نے رواں سال اپریل میں درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دو دہائی قبل دیے گئے عدالتی احکامات حتمی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور اتنے عرصے بعد پرانے مقدمے کو دوبارہ کھولنا مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے بعد اس معاملے میں ایک نئی قانونی بحث شروع ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button