
بھتیجے کی گرل فرینڈ اور چچا کی ہوس: انکار کی قیمت جان، دہلی کے پی جی روم میں قتل کے بعد نعش بیڈ باکس میں چھپائی گئی
ملزم نوجوان نے خاتون پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے چچا اور اس کے دوست کے ساتھ بھی جسمانی تعلق قائم کرے
نئی دہلی 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) قومی راجدھانی دہلی کے منگل پوری علاقے میں پیش آئے ایک ہولناک قتل کیس نے کئی چونکا دینے والے انکشافات کو جنم دیا ہے۔ ایک 35 سالہ شادی شدہ خاتون، جو تین بچوں کی ماں تھی، کو اس وقت بے دردی سے قتل کر دیا گیا جب اس نے اپنے کم عمر عاشق کے چچا اور اس کے دوست کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنے سے انکار کر دیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون منگل پوری کی رہائشی تھی اور گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ وہ اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ اسی علاقے کے ایک 22 سالہ نوجوان، جو چکن کی دکان چلاتا تھا، کے ساتھ اس کے تعلقات تھے۔ دونوں کے درمیان کافی عرصے سے رابطہ تھا اور وہ خفیہ طور پر ایک دوسرے سے ملتے رہے تھے۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نوجوان نے خاتون سے ملاقات کے لیے اپنے ایک جاننے والے کے پی جی میں کمرہ لیا تھا۔ منگل کی شام تقریباً 4:30 بجے خاتون وہاں پہنچی، جہاں دونوں کچھ دیر تک کمرے میں تنہا رہے۔ اسی دوران ملزم کا 50 سالہ چچا اور اس کا 52 سالہ دوست بھی وہاں پہنچ گئے، جو مبینہ طور پر پہلے سے ناپاک ارادے رکھتے تھے۔
پولیس کے مطابق اصل تنازع اس وقت شروع ہوا جب ملزم نوجوان نے خاتون پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے چچا اور اس کے دوست کے ساتھ بھی جسمانی تعلق قائم کرے۔ خاتون نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا، اور یہی انکار اس کی جان کا سبب بن گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق انکار کے بعد ملزم طیش میں آ گیا۔ اس نے اپنے چچا اور اس کے دوست کی موجودگی میں خاتون کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسے زمین پر گھسیٹا گیا، اس کے ہاتھ پیر پکڑے گئے اور پھر کمبل سے اس کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ اس دوران خاتون کے ماتھے پر بھی شدید چوٹیں آئیں، جو تشدد کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔
قتل کے وقت ملزم کا چچا اور اس کا دوست کمرے کے باہر پہرہ دے رہے تھے اور بعد میں انہوں نے نعش کو چھپانے میں بھی مدد کی۔ مرکزی ملزم نے نعش کو بیڈ کے نیچے موجود باکس میں چھپا دیا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب شام تقریباً 7 بجے پی جی کا مالک واپس آیا۔ اس نے کمرہ کھلا پایا اور اندر داخل ہونے پر بیڈ باکس سے خاتون کی ٹانگ باہر نکلی ہوئی دیکھی۔ یہ منظر دیکھ کر وہ گھبرا گیا۔ جب اس نے باکس کھولا تو اندر خاتون کی نعش موجود تھی، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
اطلاع ملنے پر پولیس اور فارنسک ٹیم موقع پر پہنچی اور شواہد جمع کیے۔ سینئر پولیس افسران کے مطابق نعش پر گلا گھونٹنے کے واضح نشانات تھے جبکہ ماتھے پر زخم بھی موجود تھے۔ نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ مزید تفصیلات سامنے آ سکیں، خاص طور پر یہ کہ آیا قتل سے قبل خاتون کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی یا نہیں۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم، اس کے چچا اور اس کے دوست کو گرفتار کر لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے غصے میں آ کر خاتون کو قتل کیا۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف قتل اور شواہد مٹانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد اگر جنسی زیادتی کی تصدیق ہوتی ہے تو کیس میں مزید سنگین دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک بھیانک جرم کی مثال ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہوس اور درندگی کس حد تک انسان کو اندھا کر سکتی ہے، جہاں ایک انکار کی سزا ایک بے گناہ خاتون کو اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔



