نیویارک،یکم نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کو حال ہی میں خریدنے والے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے خود کو کمپنی کا چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) مقرر کر دیا ہے جب کہ اس پلیٹ فارم کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام 9 ارکان کو بھی فارغ کر دیا ہے۔برطانوی اخبارگارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹوئٹر کی پیر کو سامنے آںے والی دستاویزات کے مطابق کمپنی نئے سرے سے تنظیم نو کرنے جا رہی ہے جس کے بعد بڑے پیمانے پر ملازمین فارغ بھی کیے جا سکتے ہیں۔اخبار کے مطابق ٹوئٹر کے ملازمین کی تعداد میں ایک چوتھائی تک کمی کی جا سکتی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی ایلون مسک کے قریبی ذرائع سے ملنے والی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر ٹوئٹر کے 25 فیصد ملازمین کو فارغ کیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹوئٹر کی جانب سے پیر کو امریکہ میں نجی اداروں کے مالی امور دیکھنے والے سرکاری محکمے میں جمع کرائی گئی دستاویز سے واضح ہوتا ہے کہ ٹوئٹر اب مکمل طور پر ایلون مسک کے کنٹرول میں ہے جب کہ انہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کو فارغ کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کمپنی کے کچھ ملازمین کو فارغ کیا جائے گا جن میں سیلز، پروڈکٹس، انجینئرنگ، لیگل اور سیفٹی ڈپارٹمنٹ کے افراد شامل ہوں گے۔ ان ملازمین میں کئی افراد ایسے بھی ہیں جنہیں انتہائی زیادہ تنخواہیں ادا کی جاتی تھیں جو کہ سالانہ لگ بھگ تین لاکھ ڈالرز کے قریب تھیں۔واضح رہے کہ ایلون مسک نے گزشتہ ہفتے ہی ٹوئٹر کا انتظام سنبھالا تھا۔
اس سے قبل کمپنی کی خریداری کیلیے ان کے کئی ماہ تک مذاکرات ہوئے جب کہ قانونی معاملات بھی اس دوران سامنے آئے۔ ایلون مسک نے 44 ارب ڈالرز کے عوض ٹوئٹر کو خریدا ہے۔ وہ الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور ترین کمپنی ‘ٹیسلا’ اور خلا میں راکٹ بھیجنے والے ادارے ‘اسپیس ایکس’ کے بھی مالک ہیں۔ایلون مسک نے ٹوئٹر کا انتظام سنبھالتے ہی متعدد اعلیٰ عہدے داروں برطرف کر دیا تھا جن میں چیف ایگزیکٹو پراگ اگروال، چیف فنانشل افسر نیڈ سیگل اور قانونی مشیر اور پالیسی چیف وجے گڈے شامل تھے۔



