یورپی اتحاد نے اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری کا اشارہ دیا، ہنگری کی رکاوٹ ختم
یورپی اتحاد اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف نئی پابندیوں کی منظوری کے قریب پہنچ گیا ہے۔
برسلز 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے کہا ہے کہ یورپی اتحاد اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف نئی پابندیوں پر سیاسی اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کاجا کالاس نے امید ظاہر کی کہ پرتشدد اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف پابندیوں کی منظوری جلد دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق یورپی اتحاد سات اسرائیلی آبادکاروں یا آبادکار تنظیموں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے بعض نمائندوں پر بھی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ معاملہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار تھا کیونکہ ہنگری کے سابق وزیر اعظم وکٹر اوربان اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔ تاہم نئی سیاسی تبدیلی اور قوم پرست رہنما پیٹر ماگیار کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ رکاوٹ ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے مسلسل کشیدگی اور تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ فلسطینی حکام اور اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث متعدد فلسطینی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
یورپی اتحاد اگرچہ اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف پابندیوں کی طرف پیش رفت کر رہا ہے، لیکن اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے یا دیگر سخت اقدامات پر اب بھی رکن ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔



