بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ 13 تا 15 مئی دورۂ چین پر، شی جن پنگ سے اہم مذاکرات متوقع

تجارت، ایران اور تائیوان پر اہم بات چیت متوقع

واشنگٹن / بیجنگ 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے چین کا اہم سرکاری دورہ کریں گے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تجارت، ایران جنگ، تائیوان، مصنوعی ذہانت اور عالمی سلامتی سمیت کئی حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ دورہ 13 سے 15 مئی تک جاری رہے گا اور اسے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق ٹرمپ بدھ کی شام بیجنگ پہنچیں گے جبکہ جمعرات اور جمعہ کو شی جن پنگ کے ساتھ باضابطہ دو طرفہ ملاقاتیں ہوں گی۔ یہ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں چین کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا جبکہ 2017 کے بعد ان کا یہ پہلا بیجنگ دورہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پرنسپل ڈپٹی پریس سیکریٹری انا کیلی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس دورے کی “غیر معمولی علامتی اہمیت” ہے، تاہم صدر ٹرمپ صرف رسمی تقاریب کے لیے سفر نہیں کرتے بلکہ وہ امریکہ کے معاشی مفادات کے لیے عملی نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دورے کے دوران ٹرمپ بیجنگ کے تاریخی “ٹیمپل آف ہیون” کا دورہ کریں گے جبکہ ان کے اعزاز میں شاہانہ سرکاری ضیافت بھی دی جائے گی۔ جمعرات کو خیر مقدمی تقریب اور دو طرفہ ملاقات کے بعد شام میں سرکاری عشائیہ ہوگا جبکہ جمعہ کو دونوں رہنما ورکنگ لنچ اور خصوصی چائے نشست میں شرکت کریں گے۔

امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کا مرکزی محور امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کو کم کرنا ہوگا۔ دونوں ممالک گزشتہ برس جنوبی کوریا میں طے پانے والی ایک سالہ تجارتی جنگ بندی میں توسیع پر بھی غور کریں گے۔ اس کے باوجود امریکی محصولات اور تجارتی پابندیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ برقرار ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک زرعی مصنوعات، توانائی کی درآمدات اور بوئنگ طیاروں کی خریداری سمیت کئی معاشی معاہدوں پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشترکہ “بورڈ آف ٹریڈ” یا تجارتی کونسل کے قیام کی تجویز بھی زیر غور آئے گی تاکہ مستقبل میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

ایران جنگ بھی اس سربراہی ملاقات کا ایک اہم موضوع ہوگی۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ چین تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرانے اور سفارتی حل کی حمایت کرے۔ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ چین ایرانی تیل کی خریداری کے ذریعے تہران کو مالی سہارا فراہم کر رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو میں ایران اور روس کے لیے چینی معاشی تعاون اور دوہرے استعمال کی فوجی اشیا کی فروخت پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں اور اس مرتبہ بھی یہ معاملہ زیر بحث آئے گا۔

تائیوان کا مسئلہ بھی مذاکرات میں نمایاں رہے گا۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ طویل عرصے سے تائیوان کو دفاعی سازوسامان فراہم کرتا آ رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان تائیوان کے معاملے پر مسلسل رابطہ رہا ہے اور حالیہ ملاقات میں بھی اس پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔

مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ چین کی تیز رفتار تکنیکی پیش رفت مستقبل میں معاشی اور سلامتی کے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، جبکہ بیجنگ امریکی پابندیوں اور ٹیکنالوجی کی محدود رسائی پر تحفظات رکھتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ 2026 کے اختتام سے قبل امریکہ کا  دورہ کر سکتے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button