بین الاقوامی خبریں

یورپ میں سیاسی اسلام کے بڑھتے اثرات پر بحث میں شدت

یورپ میں سیاسی اسلام، قومی شناخت اور سلامتی پر بحث جاری

برسلز 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)یورپ میں سیاسی اسلام، قومی شناخت اور سماجی انضمام کے موضوع پر ایک نئی اور وسیع بحث نے شدت اختیار کر لی ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران مذہبی انتہا پسندی، سماجی تقسیم اور داخلی سلامتی سے متعلق بڑھتے خدشات نے حکومتوں اور پالیسی سازوں کو نئی حکمت عملی مرتب کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یورپی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق بعض نظریاتی اور سیاسی تحریکیں یورپ کو صرف رہائش یا معاشی مواقع کی سرزمین کے طور پر نہیں بلکہ طویل المدتی سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنے کے ایک میدان کے طور پر بھی دیکھتی ہیں۔ اسی تناظر میں برطانیہ، فرانس، بیلجیم اور دیگر یورپی ممالک میں قومی شناخت، شہری اقدار اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

برسلز میں شائع ہونے والے ایک حالیہ تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ یورپ کے بعض شہروں میں علیحدگی پسند رجحانات، متوازی سماجی ڈھانچوں اور سیکولر جمہوری اصولوں سے متعلق چیلنجز مستقبل میں سماجی ہم آہنگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مضمون میں اس امر پر زور دیا گیا کہ یہ مسئلہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ پورے یورپ کے لیے ایک اہم سیاسی اور سماجی موضوع بنتا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں مقیم مسلمانوں کی بھاری اکثریت پرامن شہری زندگی کا حصہ ہے اور وہ تعلیم، تجارت، سائنس، طب، صنعت اور عوامی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم بعض شدت پسند نظریات اور سیاسی گروہوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ وہ مذہبی شناخت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جس سے معاشرتی کشیدگی اور تقسیم میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

یورپی حکومتیں گزشتہ چند برسوں سے انتہا پسندی، نفرت انگیز بیانیے اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین، نگرانی کے نظام اور کمیونٹی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی، شہری حقوق اور قومی سلامتی کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ جمہوری اقدار اور سماجی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ یورپ اپنی جمہوری روایات، ثقافتی تنوع اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہوئے انتہا پسند نظریات کا مؤثر مقابلہ کیسے کرے۔ ان کے نزدیک اس مسئلے کا حل کسی مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے میں نہیں بلکہ ایسے نظریات اور سرگرمیوں کی روک تھام میں ہے جو سماجی ہم آہنگی اور جمہوری اداروں کو کمزور کر سکتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یورپ میں جاری یہ مباحثہ دراصل ایک وسیع تر عالمی چیلنج کی عکاسی کرتا ہے جہاں مختلف معاشرے مذہبی آزادی، قومی شناخت، ثقافتی تنوع اور داخلی سلامتی کے درمیان ایک پائیدار اور متوازن راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button