بین الاقوامی خبریں

اوآئی سی کا غیرمعمولی اجلاس: یورپ میں قرآن مجید کی شہادت کے اشتعال انگیز واقعات کی مذمت

مقدس کتاب قرآن مجید کے نسخے جلانے اور اس کی بے حرمتی کے حالیہ اشتعال انگیز واقعات کے خلاف تنظیم کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا

ریاض ، یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) نے سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں اپنے صدردفاتر میں اپنی ایگزیکٹوکمیٹی کا ایک کھلا غیرمعمولی اجلاس منعقد کیاہے۔اس میں سویڈن، نیدرلینڈز اور ڈنمارک میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کے نسخے جلانے اور اس کی بے حرمتی کے حالیہ اشتعال انگیز واقعات کے خلاف تنظیم کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اجلاس میں اسلاموفوبیا کے گھناؤنے حملوں کے مجرموں کے خلاف اوآئی سی کی طرف سے کیے جانے والے ممکنہ اقدامات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل حسین براہیم طہٰ نے مغربی ممالک میں انتہائی دائیں بازو کے کارکنوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں پر مایوسی کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے مجرمانہ اقدامات مسلمانوں کو نشانہ بنانے،ان کے مقدس مذہب، اقدار اور علامتوں کی توہین کے بنیادی ارادے سے کیے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے متعلقہ حکومتوں کو سخت جوابی اقدامات کرنے چاہیے، خاص طورپراس لیے کہ اس طرح کی اشتعال انگیزی ان کے ممالک میں انتہائی دائیں بازو کے انتہاپسندوں کی جانب سے بار بارکی جارہی ہے۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے کہاکہ قرآن پاک کی بے حرمتی اورپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی کارروائیاں جان بوجھ کی جاتی ہیں اورایسے اقدامات کو اسلاموفوبیا کے کسی عام واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کا عمل پوری ایک ارب 60 کروڑ مسلم آبادی کی براہ راست توہین ہے۔حسین ابراہیم طہٰ نے تمام متعلقہ فریقوں پرزور دیا کہ وہ ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ مستقبل میں اس طرح کی اشتعال انگیزی کا اعادہ نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button