
ماسک سے استثنیٰ کا سرٹیفکیٹ دینے پر جرمنی میں ڈاکٹر کو قید کی سزا
وائن ہائم شہر میں عدالت نے ماسک سے استثنیٰ دینے پر ڈاکٹر کو مجرم قرار دیتے ہوئے تقریباً تین سال قید کی سزا دی ہے
برلن ، 4جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جرمنی میں غیرقانونی طور پر وبا کے دوران ماسک سے استثنیٰ کے سرٹیفکیٹ دینے پر ایک ڈاکٹر کو دو سال اور نو ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے جرمنی کے مقامی نشریاتی ادارے ایس ڈبلیو آر کے حوالے سے کہا ہے کہ وائن ہائم شہر میں عدالت نے ماسک سے استثنیٰ دینے پر ڈاکٹر کو مجرم قرار دیتے ہوئے تقریباً تین سال قید کی سزا دی ہے۔قید کی سزا کے علاوہ ڈاکٹر پر تین سال تک کام کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔
ڈاکٹر کو 29 ہزار 550 امریکی ڈالر کا جرمانہ بھی بھرنا ہوگا جو انہوں نے سرٹیفکیٹ دیتے وقت لوگوں سے وصول کیے۔عدالت نے ان کے معاون کو بھی دو ہزار سات سو یورو کا جرمانہ کیا ہے۔ڈاکٹر نے چار ہزار سے زیادہ افراد کو ماسک سے استثنٰی کے سرٹیفکیٹس جاری کیے تھے جن میں زیادہ تر افراد سے ان کی ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی اور معائنہ بھی نہیں کیا تھا۔مقدمے کی سماعت کے دوران ڈاکٹر نے دلیل دی کہ ماسک پہننا لوگوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ڈاکٹر کے وکیل فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتے ہیں۔وائن ہائم میں عدالت کے باہر ڈاکٹر کی حمایت میں بہت سے لوگوں نے فیصلے اور وبا سے نمٹنے کے قواعدوضوابط کے خلاف احتجاج کیا۔گزشتہ برس جرمنی نے کچھ انڈور مقامات پر ماسک پہننے کی شرط کو ختم کیا تھا لیکن اب بھی ٹرین پر طویل سفر، ہسپتالوں، نرسنگ ہومز اور پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کے دوران ماسک پہننا لازمی ہے۔



