بین ریاستی خبریںسرورق

چھتیس گڑھ:باپ کی موت کے بعد سرکاری نوکری پر دو بھائیوں میں تنازع،ہائی کورٹ نے طے کیا ترجیح کس کو ملے گی

صرف بڑا ہونا ملازمت کی ضمانت نہیں

منگیلی 18/اگسٹ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے ہمدردانہ تقرری سے متعلق ایک اہم مقدمے میں کہا ہے کہ اگر کسی متوفی سرکاری ملازم کے ایک سے زیادہ بچے ملازمت کے لیے اہل ہوں تو پہلے بڑے اہل دعویدار کے معاملے پر غور کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے چھوٹے بیٹے کو دی گئی ہمدردانہ تقرری منسوخ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

یہ معاملہ منگیلی ضلع کے دھرم پورہ میں واقع ایک سرکاری ہائیر سیکنڈری اسکول کے ملازم ایشور سنگھ کھشتریا کی موت کے بعد سامنے آیا۔ ایشور سنگھ اسکول میں چپراسی کے عہدے پر تعینات تھے اور 29 ستمبر 2016 کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

ملازم کی موت کے بعد ان کے دونوں بیٹوں نے ہمدردانہ تقرری (Compassionate Appointment) کے لیے دعویٰ پیش کیا۔ پہلی بیوی سے پیدا ہونے والے بڑے بیٹے جتیندر سنگھ کھشتریا اور دوسری بیوی سے پیدا ہونے والے راجکمار نے سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دی تھی۔

اس معاملے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے 7 اگست 2019 کو راجکمار کو ہمدردانہ بنیادوں پر تقرری دینے کا حکم جاری کیا۔ بڑے بھائی جتیندر نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر کسی بچے کے ہمدردانہ تقرری کے دعوے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ متوفی ملازم کی دوسری شادی سے پیدا ہوا ہے۔

عدالت کے مطابق متعلقہ قوانین، حقائق اور اہلیت کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں دوسری شادی سے پیدا ہونے والا بچہ بھی ہمدردانہ تقرری کے لیے اہل ہو سکتا ہے۔ تاہم موجودہ مقدمے میں اصل سوال یہ تھا کہ جب ایک ہی متوفی ملازم کے ایک سے زیادہ اہل بچے ملازمت کا دعویٰ کریں تو ترجیح کس بنیاد پر طے کی جائے۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ متعلقہ ریاستی رہنما خطوط میں ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے واضح ترجیحی طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ اس صورتحال میں عدالت نے سابقہ عدالتی فیصلوں اور قانونی اصولوں کا جائزہ لیا۔

سماعت کے دوران پٹنہ ہائی کورٹ کے راج کشور بمقابلہ ریاست بہار مقدمے سمیت دیگر عدالتی فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ ان اصولوں کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ ایک سے زیادہ اہل دعویدار ہونے کی صورت میں بڑے اہل دعویدار کے دعوے کو پہلے ترجیحی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمدردانہ تقرری کا بنیادی مقصد کسی سرکاری ملازم کی موت کے بعد اس کے خاندان کو پیدا ہونے والی فوری مالی مشکلات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس لیے متعدد اہل دعویداروں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت طریقہ کار منصفانہ، منطقی اور واضح ہونا چاہیے۔

ان ہی وجوہات کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے راجکمار کو دی گئی ہمدردانہ تقرری کا حکم منسوخ کردیا۔ تاہم عدالت نے براہ راست بڑے بیٹے کو ملازمت دینے کا حکم نہیں دیا بلکہ معاملہ دوبارہ متعلقہ افسر کے پاس بھیج دیا۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دونوں دعویداروں کی اہلیت، خاندانی حالات اور دیگر متعلقہ حقائق کا دوبارہ جائزہ لیں اور بڑے بیٹے جتیندر سنگھ کھشتریا کے دعوے پر مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کریں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عمر میں بڑا ہونا بذات خود ہمدردانہ تقرری کا حتمی حق نہیں دیتا۔ بڑے دعویدار کو بھی تقرری سے متعلق تمام مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

حکام کو تعلیمی قابلیت، مالی انحصار، خاندانی حالات اور متعلقہ قواعد کے تحت دیگر اہلیتوں کی جانچ کے بعد ہی حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔

دیگر ہمدردانہ تقرری کے مقدمات پر بھی اثر

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے مقدمات کے لیے اہم قرار دیا جا سکتا ہے جہاں متوفی سرکاری ملازم کے ایک سے زیادہ اہل بچے ہمدردانہ تقرری کا دعویٰ کرتے ہیں۔

اس فیصلے سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ محض خاندانی تعلق یا دوسری شادی سے پیدا ہونے کی بنیاد پر کسی دعویدار کو خارج نہیں کیا جا سکتا، جبکہ متعدد اہل دعویداروں کی صورت میں ترجیح طے کرنے کے لیے منصفانہ اور معقول طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔

عدالت کی ہدایت کے بعد اب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو پورے معاملے کا ازسرنو جائزہ لے کر جتیندر سنگھ کھشتریا کے دعوے پر 30 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button