
ہلدی سے دلہن کی طبیعت بگڑی، ملاوٹ والی ہلدی پر اٹھے سوال
سستی اور ملاوٹ والی ہلدی شادی کی خوشیوں کو حادثے میں بدل سکتی ہے
اندور 14 مئی (اردودنیانیوز ڈیسک):اندور میں شادی کی خوشیوں کے درمیان ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ہلدی کی رسم، جسے شادی کی اہم اور خوشگوار رسومات میں شمار کیا جاتا ہے، دلہن کے لیے خوفناک تجربہ ثابت ہوئی۔ کھرگون ضلع کے کسرواد کی رہنے والی دلہن کو ہلدی لگانے کے بعد شدید الرجی ہو گئی جس کے باعث اسے اندور کے ایم وائی اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرانا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق شادی کی تقریبات کے دوران گھر کی خواتین نے دلہن کو ہلدی لگائی۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے جسم پر سرخ دھبے نمودار ہونے لگے۔ بعد ازاں چہرے اور ہونٹوں پر سوجن آ گئی جبکہ سانس لینے میں بھی دشواری شروع ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اہل خانہ فوری طور پر اسے اندور کے ایم وائی اسپتال لے گئے۔
ڈاکٹروں نے دلہن کو فوری طور پر آئی سی یو میں داخل کر کے علاج شروع کیا۔ بروقت طبی امداد ملنے کے باعث اس کی حالت میں بہتری آئی اور بعد میں اسے اسپتال سے رخصت کر دیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق ہلدی کی تقریب کے لیے بازار سے سستی اور ملاوٹ والی ہلدی خریدی گئی تھی۔ ایم وائی اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اشوک یادو نے بتایا کہ بازار میں فروخت ہونے والی کئی اقسام کی ہلدی میں ملاوٹ کی جاتی ہے۔ ہلدی کو زیادہ چمکدار اور زرد دکھانے کے لیے مصنوعی کیمیکل شامل کیے جاتے ہیں جو شدید الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایسے کیمیکل جسم میں آکسیڈیٹیو دباؤ بڑھاتے ہیں اور مدافعتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ سنگین صورتوں میں مریض کو ایکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم جیسی خطرناک کیفیت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ہلدی میں میٹانیل یلو جیسے مصنوعی رنگ شامل کیے جاتے ہیں جو صحت کے لیے انتہائی مضر سمجھے جاتے ہیں۔ شادیوں کے موسم میں سستی ڈھیلی ہلدی کی مانگ بڑھنے سے ملاوٹ کرنے والوں کی سرگرمیاں بھی تیز ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر اشوک یادو نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ ملاوٹ والی ہلدی ہی اس شدید الرجی کی وجہ بنی۔ دوسری جانب محکمہ خوراک کے افسر منیش سوامی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شادیوں اور دیگر تقریبات کے لیے کھلی ہلدی خریدنے سے گریز کریں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگ ثابت ہلدی خرید کر گھر میں پیسوائیں یا صرف قابل اعتماد برانڈ کی ہلدی استعمال کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ملاوٹ والی ہلدی فروخت کرنے والوں کے خلاف فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعہ کے بعد بازار میں فروخت ہونے والے مصالحہ جات کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔



