کلاس روم میں حجاب پر پابندی عدالت عظمیٰ نے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں پر فوری سماعت سے کیا انکار
نئی دہلی، 24 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے جمعرات کو کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا جس میں کلاس روم کے اندر حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواستوں کو اسلام میں ضروری مذہبی عمل نہ بتائے ہوئے خارج کردیا تھا۔
چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس کرشنا مراری کی بنچ نے سینئر وکیل دیودت کامت کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ کامت نے کہا تھا کہ چونکہ امتحانات چل رہے ہیں، اس لیے اس معاملے کو فوری سماعت کے لیے درج کیا جانا چاہیے۔بنچ نے کہا کہ امتحانات کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ بار بار اس معاملے کا ذکر کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہاکہ سالیسٹر جنرل، کیا آپ انتظار کر سکتے ہیں؟۔
وہیں اس نے کامت سے کہا کہ وہ اس معاملے کو حساس نہ بنائیں۔کامت نے کہاکہ ان لڑکیوں کا امتحان 28 تاریخ کو ہے، انہیں سکول میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔ ان کا ایک سال ضائع ہو جائے گا۔تاہم عدالت نے ان کی درخواست کو قبول نہیں کیا۔



