نئی دہلی 20 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہماچل پردیش میں جاری مالی بحران نے ریاستی سیاست اور معیشت دونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ فیصلے کے تحت اعلیٰ افسران اور عوامی نمائندوں کی تنخواہوں کا ایک بڑا حصہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جس سے ریاست کی کمزور مالی حالت واضح ہوتی ہے۔
ریاستی حکومت نے چھ ماہ کے لیے چیف سیکرٹری سمیت سینئر افسران کی 30 فیصد اور دیگر ملازمین کی 20 فیصد تنخواہیں موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی تنخواہ میں 50 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے جبکہ وزراء اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں بھی نمایاں کمی یا التوا کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ مستقل کٹوتی نہیں بلکہ وقتی اقدام ہے۔
ماہرین کے مطابق ہماچل پردیش کے مالی بحران کی ایک بڑی وجہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریونیو ڈیفیسیٹ گرانٹ (RDG) میں کمی یا بندش ہے۔ اس گرانٹ کے ختم ہونے سے ریاست کو سالانہ تقریباً 8 سے 10 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، جو پہلے ریاستی بجٹ کا اہم حصہ تھا۔
ریاست پہلے ہی ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے قرض تلے دبی ہوئی ہے، اور اس گرانٹ کی بندش نے مالی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تنخواہوں اور ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز کی کمی نے حکومت کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کیا۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے انتخابی وعدوں کے تحت شروع کی گئی مفت اسکیمیں بحران کی بڑی وجہ ہیں۔ ان اسکیموں میں خواتین کو ماہانہ 1500 روپے، مفت بجلی، پرانی پنشن اسکیم کی بحالی اور روزگار کے وعدے شامل ہیں۔
حکومت نے ان میں سے کئی وعدوں کو پورا بھی کیا ہے، جس کے لیے ریاستی خزانے سے بڑی رقم خرچ ہو رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آمدنی کے محدود ذرائع کے باوجود اخراجات میں اضافہ مالی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے اس بحران کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ RDG کی بندش نے اچانک مالی دباؤ پیدا کیا۔ ان کے مطابق تنخواہوں کی موخر ادائیگی ایک عارضی قدم ہے اور جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، رقم واپس کر دی جائے گی۔
اپوزیشن لیڈر جئے رام ٹھاکر نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غلط معاشی پالیسیوں اور غیر حقیقت پسندانہ وعدوں نے ریاست کو دیوالیہ پن کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کو موخر کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ وقتی انتظام ہے۔
ہماچل پردیش کا مالی بحران کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے۔ مرکزی گرانٹس کی بندش، بڑھتا ہوا قرض، اور اخراجات میں اضافہ—یہ سب مل کر اس صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔ مفت اسکیمیں اس بحران کا ایک پہلو ضرور ہیں، مگر مکمل تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔



