قومی خبریں

پون کھیڑا کی پیشگی ضمانت کے لیے گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع

یہ درخواست 20 اپریل کو داخل کی گئ

نئی دہلی/گوہاٹی 20 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے پیر کے روز گوہاٹی ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ یہ درخواست آسام میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں داخل کی گئی ہے، جس میں ان پر وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کی اہلیہ رنیکی بھوئیاں شرما کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز بیانات دینے کا الزام ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ درخواست 20 اپریل کو داخل کی گئی اور اسی روز رجسٹری میں درج ہو کر مناسب بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کیے جانے کی کارروائی شروع کی گئی۔

عدالت عظمیٰ نے حال ہی میں کھیڑا کو گرفتاری سے تحفظ دینے سے انکار کر دیا تھا اور ان کی عبوری پیشگی ضمانت میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ کھیڑا آسام کی متعلقہ عدالت سے فوری رجوع کر سکتے ہیں اور وہاں ان کی درخواست کا فیصلہ آزادانہ طور پر کیا جائے گا۔

اس سے قبل 15 اپریل کو عدالت عظمیٰ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی عبوری پیشگی ضمانت پر روک لگا دی تھی اور کہا تھا کہ درخواست میں ممکنہ طور پر من گھڑت دستاویزات کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کھیڑا کو حاصل عبوری تحفظ ختم ہو گیا تھا۔

کھیڑا کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ پہلے دیا گیا حکم یکطرفہ تھا اور انہیں مناسب فورم سے رجوع کرنے کے لیے وقت دیا جانا چاہیے، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا۔

یہ معاملہ آسام پولیس کی جانب سے درج مقدمے سے جڑا ہے، جو بھارتیہ نیائے سنہتا کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس میں ہتک عزت، جعلسازی اور مجرمانہ سازش جیسے الزامات شامل ہیں۔ کھیڑا نے الزام لگایا تھا کہ رنیکی شرما کے پاس متعدد غیر ملکی پاسپورٹ، دبئی میں غیر ظاہر شدہ جائیدادیں اور امریکہ میں شیل کمپنیاں موجود ہیں، جنہیں سرما خاندان نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب گوہاٹی کی ایک مقامی عدالت نے پولیس کی جانب سے کھیڑا کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کردہ وجوہات محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور ان کے ساتھ کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس معاملے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے جاری سیاسی کشیدگی اور انتخابی ماحول سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button