صحت اور سائنس کی دنیا

فوڈ پوائزننگ: وجوہات، علامات اور مکمل احتیاطی تدابیر- احمد احمد معین حبان بنگلور

فوڈ پوائزننگ کی مکمل معلومات

فوڈ پوائزننگ ایک عام مگر اہم بیماری ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کھانے یا پینے کی اشیاء جراثیم سے آلودہ ہو جاتی ہیں۔ یہ جراثیم جنہیں سائنسی طور پر پیتھوجینز کہا جاتا ہے، کھانے کو مضر صحت بنا دیتے ہیں۔ عام طور پر ہر غذا پر بیکٹیریا یا وائرس موجود ہوتے ہیں، لیکن جب یہ حد سے زیادہ بڑھ جائیں یا کھانا خراب ہو جائے تو یہی غذا انسانی جسم کے لیے زہر بن جاتی ہے اور فوڈ پوائزننگ کا باعث بنتی ہے۔

فوڈ پوائزننگ کی علامات عموماً اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور ان میں قے، متلی، بھوک میں کمی، بلڈ پریشر کا کم ہونا، جسمانی کمزوری، پسینہ آنا، کھڑے ہونے پر چکر آنا، گھبراہٹ، ہلکا بخار، پیٹ یا آنتوں میں درد، تھکاوٹ، جسم میں پانی کی کمی، سر درد اور اسہال شامل ہیں۔ عام طور پر ان میں سے کم از کم چند علامات ضرور ظاہر ہوتی ہیں اور مریض کو کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر یہ بیماری شدت اختیار کر لے تو خطرناک علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں، جیسے تین یا چار دن سے زیادہ اسہال جاری رہنا، 101 ڈگری سے زیادہ بخار ہونا، شدید کمزوری، جسم میں پانی کی شدید کمی، منہ کا خشک ہو جانا، دیکھنے یا بولنے میں دشواری اور پیشاب میں خون آنا۔ ایسی صورت حال میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ تاخیر نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

عام طور پر فوڈ پوائزننگ آلودہ کھانا کھانے کے دو سے چھ گھنٹے کے اندر ظاہر ہو جاتی ہے، تاہم بعض اوقات یہ علامات چند گھنٹوں سے لے کر چند دنوں یا حتیٰ کہ چند ہفتوں کے بعد بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کون سا جراثیم اس بیماری کا سبب بنا ہے۔ زیادہ تر افراد میں یہ علامات دو دن کے اندر بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

 فوڈ پوائزننگ کی بنیادی وجوہات میں آلودہ کھانا، گندے برتن، بغیر دھلے پھل اور سبزیاں، آلودہ پانی، مناسب طریقے سے نہ پکا ہوا گوشت یا دودھ اور کھانا پکاتے وقت ہاتھ صاف نہ رکھنا شامل ہیں۔ اگر کھانے کو صحیح درجہ حرارت پر نہ پکایا جائے تو جراثیم باقی رہ جاتے ہیں جو بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح دودھ اور گوشت جیسی غذائیں جلد خراب ہو جاتی ہیں اور ان میں بیکٹیریا تیزی سے بڑھتے ہیں۔

کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، خاص طور پر چھوٹے بچے، اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں فوڈ پوائزننگ کی صورت میں الٹیاں اور اسہال کے باعث جسم میں پانی کی کمی تیزی سے پیدا ہو جاتی ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایسے افراد کو خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر بیماری زیادہ شدید نہ ہو تو گھر پر بھی احتیاط کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دی جائے، ناریل پانی اور پھلوں کے رس کا استعمال کیا جائے، زیادہ آرام کیا جائے اور ہلکی غذا جیسے کیلا، چاول، دلیا اور ٹوسٹ کھایا جائے۔ مصالحہ دار، تلی ہوئی، چکنائی والی اور کیفین والی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے، جبکہ دودھ اور دہی سے بھی وقتی طور پر پرہیز بہتر ہوتا ہے۔ مناسب احتیاط کے ساتھ زیادہ تر مریض 48 گھنٹوں کے اندر بہتر ہو جاتے ہیں۔

فوڈ پوائزننگ سے بچاؤ کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ کھانے سے پہلے اور بعد میں کم از کم بیس سیکنڈ تک ہاتھ صابن سے دھونا چاہیے، پھل اور سبزیوں کو اچھی طرح صاف کرنا چاہیے، گوشت، مچھلی اور انڈوں کو مکمل پکانا چاہیے اور صاف برتن استعمال کرنے چاہئیں۔ خراب، بدبو دار یا مشتبہ کھانے کو فوراً ضائع کر دینا چاہیے اور جلد خراب ہونے والی اشیاء کو ایک گھنٹے کے اندر فریج میں رکھ دینا چاہیے۔

ان سادہ مگر اہم احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے نہ صرف فوڈ پوائزننگ بلکہ کئی دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے، کیونکہ صحت مند زندگی کا دارومدار صاف اور معیاری غذا پر ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button