
ہماچل پردیش کی یونیورسٹی میں طالبات کی خفیہ ویڈیوز بنانے کا انکشاف، طلبہ کا شدید احتجاج
ہماچل پردیش یونیورسٹی ہاسٹل ویڈیو تنازعہ
نئی دہلی 23 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ہماچل پردیش کے ضلع سیرمور میں واقع ایک نجی یونیورسٹی ایک بار پھر تنازعہ میں آگئی ہے۔ گرلز ہاسٹل میں نہانے والی طالبات کی مبینہ خفیہ ویڈیوز ریکارڈ کیے جانے کے انکشاف کے بعد پورے کیمپس میں ہنگامہ مچ گیا اور طلبہ نے شدید احتجاج کیا۔
اطلاعات کے مطابق طالبات کو شبہ ہوا کہ ہاسٹل کے ریسٹ روم میں ان کی نجی سرگرمیوں کو خفیہ طور پر ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شکایت ملنے کے باوجود بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دینے میں تقریباً ڈھائی گھنٹے کی تاخیر کی، جس کے باعث طلبہ کا غصہ مزید بڑھ گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم یونیورسٹی پہنچی اور تحقیقات شروع کر دیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ معاملہ میں ملوث صفائی کارکن جھارکھنڈ کا رہنے والا ہے۔ الزام ہے کہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم طلبہ نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس نے کہا ہے کہ معاملہ کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ ملزم کی گرفتاری کے بارے میں ابھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ دوسری جانب طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ قصوروار کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔



