بین الاقوامی خبریں

یوکرین میں روسی فوج کو نقصان پہنچانے والا’ہیمارس‘ایک مہلک امریکی ہتھیار

یوکرین کے حملے میں یوکرین میں اپنے 63 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد روس کو اندرونی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

 HIMARS Rockets  کیف، 4جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) یوکرین کے حملے میں یوکرین میں اپنے 63 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد روس کو اندرونی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک ہی حملے میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کی تعداد ہے جسے ماسکو نے گذشتہ فروری میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے تسلیم کیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جیسا کہ کئی غیر روسی ذرائع میں بتایا گیا ہے لیکن روسی وزارت دفاع نے اس کی تعداد صرف 63 بتائی ہے۔یوکرین کے جنرل اسٹاف نے پیر کی شام اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے نئے سال کے موقع پر ڈونیٹسک کے مشرق میں واقع شہر ماکیفکا میں روسی فوج کے لیے ایک عارضی تعیناتی مرکزپر حملہ کیا، جس پر روسی افواج کا کنٹرول ہے۔ فروری 2022 میں یوکرین میں اپنی فوجی مداخلت کے آغاز کے بعد سے روسی فوج جو اپنی صفوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں شاذ و نادر ہی بات کرتی ہے نے کبھی کسی ایک حملے میں اتنے بھاری نقصان کی اطلاع نہیں دی۔

ایک غیر معمولی اعلان میں جس میں روسی جنگی نامہ نگاروں کی طرف سے تنقید کی گئی ماسکو میں وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ فوجیوں کو ہیمارس سسٹم کے ذریعے داغے گئے "چار میزائلوں” سے مارا گیا۔ یہ ہتھیار یوکرینی فوج کو امریکا کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ "HIMARS” ہلکے بکتر بند میزائل لانچر ہیں جو فائر گائیڈڈ اور درست نشانہ لگانے والے میزائلوں سے لیس ہیں۔روسی فوجی بلاگرز جن میں سے بعض کے فالورز کی تعداد لاکھوں میں ہے ،نے کہا کہ یوکرینی فوج کے حملے میں روسی فوج کو بڑے پیمانے پر تباہی، جانی نقصان اور گولہ بارود گولہ بارود کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ سب ایک ہی فوجی بیرک میں تھے حالانکہ کمانڈروں کو معلوم تھا کہ یہ یوکرین کے میزائلوں کی حدود میں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button