اسلام آباد،۸؍اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی 9th اپریل کو دوبارہ وہیں سے شروع کی جائے گی جہاں سے یہ سلسلہ منقطع ہوا تھا۔ قومی اسمبلی کا ایوان ہفتے کو یہ فیصلہ کرے گا کہ انہیں وزیرِ اعظم عمران خان پر اعتماد ہے یا نہیں۔
اسمبلی اراکین وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر رائے شماری اوپن ووٹ کے ذریعے کریں گے جس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ وزیرِ اعظم کو بیلٹ کی شکل میں ووٹ دیا جائے گا جسے ارکان ایک باکس میں ڈالیں گے۔
بلکہ اسمبلی کی کارروائی کے آغاز سے قبل ایوان میں گھنٹیاں بجائی جائیں گی تا کہ عمارت میں موجود اراکین اسمبلی ہال میں آ جائیں جس کے بعد ہال کے دروازے بند کرنے کے بعد باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہو گا۔آئینِ پاکستان کے مطابق ملک کے وزیرِ اعظم اور صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا انتخاب اوپن ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔
وزیرِ اعظم کو عہدے سے ہٹانے یا ان پر اعتماد کرنے کے لیے ووٹنگ بھی اوپن ہو گی۔ اوپن ووٹ کے لیے ایوان میں دو لابیاں بنائی جائیں گی۔ جو اراکین عدم اعتماد کے حق میں ہوں گے وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایک لابی میں جمع ہوں گے اور وہ اراکین جو وزیرِ اعظم پر اعتماد کا اظہار کریں گے وہ دوسری لابی میں اکٹھے ہوں گے۔
دونوں لابیوں میں پہلے سے موجود اسمبلی کا عملہ وہاں جمع ہونے والے اراکین کے فہرستوں میں نام پر نشان لگانے کے بعد اراکین کے دستخظ لے گا۔ اس طرح اراکین کے دستخظ کو ووٹ تصور کیا جائے گا۔
اراکین کے دستخط کا عمل مکمل ہونے کے بعد تمام اراکین واپس اسمبلی ہال میں آئیں گے جس کے بعد ووٹوں (دستخطوں)کی گنتی ہو گی اور اسپیکر کی جانب سے نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔
اگر ہفتے کو وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو اسپیکر کی جانب سے تحریری طور پر صدرِ پاکستان کو آگاہ کیا جائے گا کہ وزیرِ اعظم اب قائدِ ایوان نہیں رہے جس کے بعد سیکریٹری کی جانب سے نوٹی فکیشن جاری ہو گا۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ اسمبلی کی پانچ سالہ مدت 25 جولائی 2023 کو مکمل ہو گی جس کے بعد نگراں حکومت قائم ہو گی جو تین ماہ کے اندر عام انتخابات کرائے گی۔اگر وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو پاکستان میں یہ روایت برقرار رہے گی کہ ملک کے قیام سے اب تک کوئی بھی وزیرِ اعظم اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔
متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ان کے پاس اسمبلی میں نمبرز پورے ہیں۔وزیرِ اعظم عمران خان سے قبل دو وزرائے اعظم نے عدم اعتماد کی تحریکوں کا سامنا کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کو شکست دی ہے۔
سن 2006 میں وزیرِ اعظم شوکت عزیز کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ اس سے قبل سن 1989 میں بے نظیر بھٹو کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تھی۔



