بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکی کانگریس سے بھارتی تنظیم FIIDS کا مطالبہ، طلبہ ویزا کی نئی پابندیاں روکنے کی اپیل

امریکہ میں اسٹوڈنٹ ویزا پابندیوں پر تنازع، بھارتی تنظیم FIIDS نے امریکی کانگریس سے مداخلت کا مطالبہ

واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی حکومت کی جانب سے غیر ملکی طلبہ اور ایکسچینج وزیٹرز کے ویزا قوانین میں سختی کے بعد بھارتی نژاد افراد کی نمائندہ تنظیم فاؤنڈیشن فار انڈیا اینڈ انڈین ڈائسپورا اسٹڈیز (FIIDS) نے امریکی کانگریس اور امریکی شہریت و امیگریشن سروس (USCIS) سے نئی پابندیوں پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ طلبہ اور ایکسچینج وزیٹرز کے لیے ویزا پر چار سال کی حد مقرر کرنا امریکی اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

FIIDS کے چیف آف پالیسی اینڈ اسٹریٹیجی کھنڈی راؤ کاند نے کہا کہ جدید تعلیمی پروگراموں کی تکمیل میں اکثر چار سال سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ ان کے مطابق بیچلر ڈگری کی اوسط مدت تقریباً 52 ماہ جبکہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے میں اوسطاً 5.7 سال لگتے ہیں۔ ایسے میں چار سال کی حد کے باعث کئی طلبہ اپنی تعلیم یا تحقیق مکمل ہونے سے پہلے ہی امریکہ چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ USCIS کے پاس پہلے ہی ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں اور ان پر کارروائی میں تقریباً ایک سال لگ رہا ہے، جس سے نئی پابندیاں مزید مشکلات پیدا کریں گی۔

تنظیم نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئی پالیسی کے نفاذ کو مؤخر کیا جائے، طلبہ کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور امریکی تحقیق و اختراعی نظام کو نقصان سے بچایا جائے۔

FIIDS کے مطابق 2025 کے خزاں (Fall 2025) کے تعلیمی سیشن میں بین الاقوامی طلبہ کے نئے داخلوں میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو کورونا وبا کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 96 فیصد تعلیمی اداروں نے اس کمی کی بنیادی وجہ ویزا سے متعلق خدشات کو قرار دیا۔

تنظیم کے مطابق اس وقت امریکہ میں تقریباً 12 لاکھ بین الاقوامی طلبہ زیر تعلیم ہیں، جو سالانہ تقریباً 55 ارب امریکی ڈالر کی معاشی سرگرمی میں حصہ ڈالتے ہیں۔

FIIDS نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ F-1 اور J-1 ویزا ہولڈرز کے لیے سابقہ مدتِ قیام کا نظام بحال کیا جائے یا پھر سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے ایسے گریجویٹ پروگراموں کو استثنیٰ دیا جائے جن کی تکمیل میں 48 ماہ سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ OPT اور STEM OPT کی مدت کو چار سالہ حد میں شامل نہ کرنے اور 60 روزہ گریس پیریڈ دوبارہ بحال کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

FIIDS نے USCIS سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ستمبر کے وسط میں نئی پالیسی کے نفاذ سے قبل انتظامی ریلیف دیتے ہوئے ایسے طلبہ کو خودکار توسیع دی جائے جو اپنی تعلیم باقاعدگی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button