مہنگائی کا نیا طوفان؟ صابن، بسکٹ اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافے کے آثار
روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہونے سے متوسط اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ
نئی دہلی 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک بھر کے عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کے شدید جھٹکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ روزمرہ استعمال کی کئی اہم اشیاء جلد مزید مہنگی ہونے کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں۔ صابن، سرف، بسکٹ، پیکٹ بند غذائی اشیاء، مشروبات اور گھریلو استعمال کی دیگر مصنوعات تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں بڑھتے اخراجات کے سبب قیمتوں میں اضافے کی تیاری کر رہی ہیں۔
فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز یعنی ایف ایم سی جی شعبہ سے وابستہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ خام تیل، پیکیجنگ میٹریل، ٹرانسپورٹ اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کے اثرات بھی پیداواری لاگت میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیے جا رہے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی کمزور ہوتی قدر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہی 3 سے 5 فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اگر خام مال اور نقل و حمل کے اخراجات میں کمی نہ آئی تو آنے والے دنوں میں مزید مہنگائی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر عام صارفین کے گھریلو بجٹ پر پڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بڑھتی لاگت سے نمٹنے کے لیے کمپنیاں صرف قیمتیں بڑھانے تک محدود نہیں رہیں بلکہ بعض مصنوعات کے پیکٹ کا وزن کم کرنے کی حکمت عملی بھی اختیار کر رہی ہیں۔ کئی کمپنیاں رعایتی اسکیموں اور تشہیری اخراجات میں کمی لا کر اپنے منافع کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی سپلائی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے اور ذخیرہ اندوزی کے انتظامات مضبوط کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
بازار میں 5، 10 اور 15 روپے والے چھوٹے پیک برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے پر فوری اثرات کم پڑیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مہنگائی کا دباؤ برقرار رہا تو چھوٹے پیک بھی زیادہ عرصہ سستے نہیں رہ سکیں گے۔
ہندوستان یونی لیور لمیٹڈ کے چیف فنانشل آفیسر نرنجن گپتا نے اعتراف کیا کہ کمپنی پر 8 سے 10 فیصد تک مہنگائی کا دباؤ ہے، جس کے باعث مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر اخراجات مزید بڑھے تو آئندہ دنوں میں نئی قیمتیں نافذ کی جا سکتی ہیں۔
اسی طرح ڈابر انڈیا کے گلوبل چیف ایگزیکٹو آفیسر موہت ملہوترا نے کہا کہ کمپنی رواں مالی سال میں تقریباً 10 فیصد افراط زر کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کئی زمروں میں قیمتیں پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہیں جبکہ لاگت کم کرنے کے مختلف اقدامات پر بھی کام جاری ہے۔
برٹانیہ انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رکشیت ہرگیو نے بتایا کہ پیکیجنگ اور ایندھن کے اخراجات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی قیمتیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ بعض مصنوعات کے پیکٹ کا وزن کم کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے، خاص طور پر بڑے پیک والی مصنوعات متاثر ہو سکتی ہیں۔
نیسلے انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر منیش تیواری نے موجودہ معاشی صورتحال کو غیر یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی بازار میں شدید اتار چڑھاؤ پایا جا رہا ہے اور آئندہ چند ماہ کے حالات کے بارے میں واضح اندازہ لگانا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر خام تیل، ایندھن اور درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام پیدا نہ ہوا تو آنے والے مہینوں میں عام گھریلو استعمال کی مزید مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں، جس سے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔



