بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیلی وزیر کے دورۂ مسجد اقصیٰ پر عالمی ردِعمل:آخر وجہ کیا ہے؟

قوم پرست وزیر بین گویر کے یروشلم میں مقدس مقامات کے دورے پر عالمی سطح پر ردِ عمل سامنے آیا

لندن،5جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیل میں حال ہی میں وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی کابینہ کے ایک انتہائی قوم پرست وزیر بین گویر کے یروشلم میں مقدس مقامات کے دورے پر عالمی سطح پر ردِ عمل سامنے آیا ہے۔اسرائیلی وزیر بین گویر کے دورے پر جہاں فلسطینی وزراتِ خارجہ نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے وہیں گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے متحدہ عرب امارات نے بھی اس دورے کی مذمت کی ہے۔متحدہ عرب امارات اور چین نے حالیہ صورتِ حال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس معاملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔اسی طرح حال ہی میں اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے والے مسلم ملک ترکیے نے بھی اس دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر کے دورے کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

اسرائیل کے پڑوسی ملک اردن اور مصر کے علاوہ سعودی عرب نے بھی اسرائیلی وزیر کے دورے سے پیدا ہونے والے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بھی اسرائیلی وزیر کے مسجد اقصیٰ کے دورے کو بلا جواز قرار دیا گیاہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی کابینہ میں قومی سلامتی وزیر بین گویر کا دورہ مقدس مقامات سے متعلق طے شدہ صورتِ حال سے انحراف نہیں ہے تاہم اس دورے کے باعث اسرائیل کو اپنے اتحادیوں اور مخالفین دنوں ہی کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔اسرائیل کے وزیر بین گویر نے جس کمپاؤنڈ کا دورہ کیا ہے اسے مسلمان اور یہودی دونو ں ہی مقدس تصور کرتے ہیں۔ 35 ایکڑ پر پھیلے اس وسیع احاطے کو مسلمان مسجداقصیٰ یا حرم الشریف اور یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔مشرقی یروشلم کے قدیم شہر کے اس حصے کو مسیحی، یہودی اور مسلمان تینوں ہی مقدس مانتے ہیں۔

اس احاطے ہی میں قبۃ الصخرا یا ڈوم آف دی راک بھی ہے۔اسی احاطے میں قبۃ الصخرا کے سامنے ٹیمپل ماؤنٹ کے جنوب میں ایک نقرئی (سلور) گنبد والی عمارت ہے جو بنیادی طور پر مسجد اقصیٰ ہے۔ اسے مسلمان قبلی مسجد کہتے ہیں ۔ مسلمان اس پورے احاطے ہی کو الاقصیٰ کہتے ہیں۔مسلمانوں کے نزدیک مسجدِ اقصیٰ مکہ میں خانہ کعبہ اور مدینہ میں مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔وہیں اس احاطے کے مغرب میں دیوارِ گریہ ہے جہاں یہودی عبادت کرتے ہیں اور زائرین بھی یہاں آتے ہیں۔یہودیوں کی تاریخی روایات کے مطابق یہ دیوار اور اس کے ارد گرد کی تعمیرات اس بڑے معبد ‘ٹیمپل ماؤنٹ’ کی باقیات ہیں جہاں یہودیوں کے مقدس معبد قائم تھے جنہیں پہلے بابلیوں اور بعد میں بازنطینیوں نے منہدم کر دیا تھا۔چوں کہ یہ دیوار بھی اب اس احاطے کی بڑی دیواروں میں شامل ہو چکی ہے جس میں مسلمانوں کی تعمیرات قبۃ الصخرا اور مسجد اقصیٰ بھی شامل ہیں، اس لیے دیوار پر اختیار اور یہاں رسائی کے حوالے سے عربوں اور یہودیوں میں تنازعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button