ایران نے رشدی پر حملہ کرنے والے ھادی کے لیے تحفہ کا اعلان کردیا
برطانوی مصنف سلمان رشدی کو چھرا گھونپنے والے لبنانی نژاد امریکی نوجوان ہادی مطر کو ایک ایرانی عہدیدار نے قیمتی تحفہ پیش کر دیا
تہران، 21فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) برطانوی مصنف سلمان رشدی کو چھرا گھونپنے والے لبنانی نژاد امریکی نوجوان ہادی مطر کو ایک ایرانی عہدیدار نے قیمتی تحفہ پیش کر دیا ہے۔ اس اقدام سے گذشتہ برس اگست کو ہونے والے اس حملے میں تہران کے ملوث ہونے کا اندازہ بھی لگایا جا رہا ہے۔ اس وقت کئی عہدیداروں نے ایران کے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کر دی تھی۔پیر کی شام ملعون رشدی کے خلاف خمینی کے فتوے کے نفاذ کے لیے عوامی کمیٹی کے سیکرٹری محمد اسماعیل زارعی نے حملہ آور کو ایک ہزار مربع میٹر اراضی دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہوئی کہ اس نے ایسا کیا۔
زارعی نے کہا کہ سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے اس بہادر نوجوان کے اعزاز میں 1000مربع میٹر زرخیز اور قیمتی زرعی زمین دی گئی۔ یہ تحفہ ایک خصوصی تقریب کے دوران ھادی مطر کو یا اس کے قانونی نمائندے کے حوالے کیا جائے گا۔ایران کے اسماعیل زرعی نے اس امریکی نوجوان کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے اس کارروائی کو جرات مندانہ اقدام قرار دیا اور کہا تھا کہ ھادی نے سلمان رشدی کو ایک آنکھ سے اندھا کر دیا۔ اس کو ایک ہاتھ سے معذور کر دیا۔ اس پر ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔سلمان رشدی پر 12 اگست 2022 کو حملہ کیا گیا تھا۔ رشدی نے فروری 1989 میں ایک گستاخانہ ناول شیطانی آیات لکھا تھا جس پر پورے عالم اسلام میں زبردست احتجاج کیا گیا تھا۔
یورپی یونین نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
برسلز، 21فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) برسلز نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، تاہم پاسداران انقلاب فورسز کو دہشت گرد گروپ قرار نہیں دیا۔ ادھر برطانیہ نے اپنے ملک میں مقیم صحافیوں کو دی جانے والی مبینہ دھمکیوں پر ایک اعلیٰ ایرانی سفارت کار کو طلب کر لیا۔یورپی یونین نے 20 فروری پیر کے روز اسلامی جمہوریہ ایران میں عوامی مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن میں کردار اد کرنے والے تہران کے کئی حکام اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ان نئی پابندیوں میں 32 افراد اور دو اہم اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس میں تہذیب و ثقافت کے وزیر، امور دین کی رہنمائی کے وزیر، وزیر تعلیم نیز مظاہروں پر کریک ڈاؤن کی حمایت کرنے والے کئی دیگر سیاستدان اور اہلکار شامل ہیں۔تازہ ترین پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے مجموعی طور پر 196 افراد اور 33 ادارے متاثر ہوں گے۔تاہم یورپی یونین ایران کے خصوصی پاسداران انقلاب فورسز کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے اقدام کیخلاف فیصلہ کیا۔
جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک نے سربراہی اجلاس کے اختتام کے بعد برسلز میں کہا کہ یورپی یونین میں ہمارے پاس ابھی تک پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔یورپی یونین کے اعلانات کے فوری بعد برطانیہ نے ایران سے متعلق اپنی پابندیوں کی فہرست میں آٹھ نئے عہدیداروں کا اضافہ کیا۔ برطانیہ نے اپنی نئی پابندیوں میں ملک کے بعض ججوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن کے بارے میں لندن کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ایک اہم پیش رفت کے تحت برطانوی حکومت نے لندن میں ایران کے سب سے سینئر سفارت کار کو برطانیہ میں رہنے والے صحافیوں کے خلاف سنگین دھمکیوں پر طلب کرلیا۔
اس سے پہلے ہفتے کے روز ایرانی حکومت پر تنقید کرنے والے لندن میں واقع ایک ٹیلیویڑن اسٹیشن نے کہا تھا کہ وہ تہران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے اسٹوڈیوز کو امریکہ منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے ایک بیان میں کہا کہ میں برطانیہ میں مقیم صحافیوں کی زندگیوں کو ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق خطرات سے کافی پریشان ہوں اور آج میں نے تہران کے نمائندے کو طلب کر کے واضح کر دیا ہے کہ اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا کہ ہم نے بچوں سمیت ایرانی عوام پر جبر کرنے اور قتل کرنے میں ملوث ہونے پر حکومتی ارکان پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ ایران کی دھمکیوں کو بغیر چیلنج کیے کبھی بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ایک بیان کے مطابق لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ایران انٹرنیشنل ٹی وی نے تہران کی حمایت یافتہ دھمکیوں کے بعد دارالحکومت لندن میں اپنے اسٹوڈیوز کو نا چاہتے ہوئے بھی بند کر دیا ہے۔



