بین الاقوامی خبریں

ایران نے پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کی شرط رکھی ہے: اسرائیل

مقبوضہ بیت المقدس ، 21فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیل نے انکشاف کیا ہے کہ ویانا میں جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے بات چیت میں ایران نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرے۔

یہ مطالبہ کسی بھی نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے بطور شرط رکھا گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایران دنیا میں سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم کو پابندیوں سے چھوٹ دلانا چاہتا ہے۔

بیان میں اس مطالبے کو بے ہودہ قرار دیا گیا ہے۔نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ عسکری پہلو کی تحقیق بند کر دے۔امریکا نے 8 اپریل 2019کو ایران کی پاسداران انقلاب اور اس کی ذیلی تنظیم القدس فورس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے متعلق امریکی وزارت خارجہ کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا جب واشنگٹن نے کسی دوسرے ملک کے سرکاری حکومتی اداروں کے نام اس فہرست میں درج کیے۔امریکی وزارت خارجہ نے ستمبر 2020میں جاری ایک رپورٹ میں گذشتہ دو برسوں کے دوران میں ایران اور اس کے ایجنٹوں کی جانب سے کی جانے والی دشمن کارروائیوں سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے تھے۔

ان کارروائیوں کا مقصد مشرق وسطی میں امن کی کوششوں کو سبوتاڑ کرنا اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔رپورٹ میں باور کرایا گیا کہ ایران اس مقصد کے لیے مسلح جماعتوں اور اپنے ایجنٹوں کو استعمال کرتا ہے۔

ان میں یمن میں حوثی ملیشیا، لبنان میں حزب اللہ ، فلسطین میں حماس اور اسلامی جہاد اور بحرین میں الاشتر بریگیڈز شامل ہیں۔ ان کے علاوہ عراق میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ بریگیڈز اور عصائب اہل الحق تنظیم کو بھی دہشت گردی پھیلانے کے واسطے کام میں لایا جاتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب بیرون ملک تہران کے رسوخ میں توسیع کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں کو بھرتی کرتی ہے۔

ایران کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ اسرائیل کیلئے زیادہ خطرناک ہوگا:نفتالی

سرکاری عبرانی چینل کان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ مغرب اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ جو شکل اختیار کر چکا ہے وہ اپنے پیشرو سے کمزور ہو گا لیکن یہ اسرائیل کی ریاست کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔بینیٹ نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران مزید کہا کہ ہم ایک معاہدے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو تقریباً ڈھائی سال تک جاری رہے گا،

جس کے بعد ایران بغیر کسی پابندی کے جدید سینٹری فیوجز تیار اور انسٹال کر سکے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بدلے میں ایرانیوں کو اس وقت دسیوں ارب ڈالر ملیں گے اور پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔بینیٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ کسی بھی صورت میں ہم اپنے آپ کو منظم کر رہے ہیں،

تمام جہتوں پر اگلے دن کی تیاری کر رہے ہیں، تاکہ ہم اسرائیل کے شہریوں کو اپنے طور پر محفوظ رکھ سکیں۔سنہ 2015 میں ایران نے امریکہ، فرانس، برطانیہ، چین، روس اور جرمنی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے بدلے میں اس پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں اور اس نے تہران کے ایٹمی پروگرام پر پابندیاں عائد کر دی تھیں تاکہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو روکا جا سکے،

لیکن سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2018 میں یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی اور تہران پر پابندیاں عائد کرنے کا اعادہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button