
تہران،5 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایرانی حکام اب کھلے عام اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں جس کی تہران طویل عرصے تک تردید کرتا آیا ہے یعنی ہتھیاروں کے درجے کے مواد کی قریب ترین سطح پر یورینیم کوافزودہ کرنے کی تکنیکی صلاحیت، یہ وہ حد ہے جس کے بعد اسلامی جمہوریہ جب چاہے جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے خلیج اورایران کے نیوز ڈائریکٹرجون گیمبریل 2006 سے خلیج تعاون کونسل کے ملکوں اور ایران کے بارے میں خاص طور سے رپورٹنگ کرتے آرہے ہیں۔
ایران کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں اپنی اس تجزیاتی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ ایران کے ان حالیہ اعلانات کا مقصد امریکہ سے مزید رعائتیں حاصل کرنا ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں بعض تجزیہ کارشمالی کوریا کی مثال دیتے ہیں، جس نے تقریباً 20 سال پہلے یہی کیا تھا۔ان میں بہت سی باتوں کی آزمائش جمعرات کو شروع ہونے والے مذاکرات میں ہو سکتی ہے جب ایران، امریکہ اور یورپی یونین مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کر رہے ہیں۔’
ان مذاکرات کو جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ویانا میں آخری کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس میں ایک آن لائن ایرانی ویڈیو بھی شامل ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ملک کے بیلسٹک میزائل نیویارک کو جہنم کے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔مبالغہ آرائی کو ایک طرف رکھتے ہوئے، مجموعی طور پراستعمال کی گئی زبان کو تہران کی طرف سے لفظی اشتعال انگیزی کہا جا سکتا ہے۔سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیرکمال خرازی نے جولائی کے وسط میں الجزیرہ کو بتایا تھا کہ چند دنوں میں ہم 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اوراب ہم آسانی سے 90 فیصد افزودہ یورینیم تیار کر سکتے ہیں۔ ایران کے پاس ایٹم بم بنانے کے تکنیکی ذرائع موجود ہیں لیکن ایران کی طرف سے اسے بنانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے،90 فیصد افزودہ یورینیم کو جوہری ہتھیاروں کے درجے کا سمجھا جاتا ہے۔
اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے زیرانتظام ثقافت کے وزیرعطاء اللہ مہاجرانی نے اسی دوران ایران کے روزنامہ اعتماد میں لکھا کہ خرازی کا یہ اعلان کہ ایران جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، اسرائیل اور صدر جو بائیڈن کے لیے ایک اخلاقی سبق فراہم کرتا ہے۔اس سلسلے میں تازہ ترین بیان ایران کی سویلین نیوکلیئرایجنسی کے سربراہ محمد اسلامی کا ہے جنہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ عسکری پہلو کے بارے میں اپنا تبصرہ رقم کیا ہے۔



