ایران سے منسلک ہیکرز کا بڑا دعویٰ: اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ کا فون ہیک، خفیہ ڈیٹا لیک
اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ کا فون ہیک، 19000 فائلیں سامنے
تہران 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران سے منسلک ایک ہیکر گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے سابق چیف آف اسٹاف ہرزی حلوی کا موبائل فون ہیک کر کے بڑی مقدار میں حساس اور خفیہ ڈیٹا حاصل کر لیا ہے، جس میں ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز شامل ہیں۔
ہیکر گروپ "ہنڈالا” کے مطابق وہ کئی برسوں سے خاموشی کے ساتھ حلوی کے سسٹمز میں داخل ہو کر معلومات جمع کر رہا تھا۔ گروپ نے کہا کہ اس نے 19000 سے زائد فائلیں حاصل کیں، جنہیں اب مرحلہ وار عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ لیک ہونے والے مواد میں اسرائیل کی اہم فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز، کرائسس مینجمنٹ رومز اور اسٹریٹجک نقشوں سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ ہیکرز کے مطابق اسرائیلی فوجی نظام کی تفصیلات ان کے لیے "کھلی کتاب” بن چکی تھیں۔
9 اپریل 2026 کو جاری کردہ تصاویر میں ہرزی حلوی کو مختلف فوجی سرگرمیوں میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے، جن میں فوجی اڈوں کے دورے، پائلٹس سے ملاقاتیں اور بریفنگز شامل ہیں۔ کچھ نجی نوعیت کی تصاویر بھی منظر عام پر آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جن میں ان کی خاندانی زندگی کی جھلکیاں بھی شامل ہیں۔
لیک شدہ مواد میں ایک اہم ملاقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر ہرزی حلوی نے اردن کے آرمی چیف یوسف حنیتی سے خفیہ طور پر ملاقات کی۔ اطلاعات کے مطابق یہ دورہ انتہائی حساس نوعیت کا تھا اور وہ سویلین لباس میں اردن پہنچے تھے۔ مزید تصاویر میں انہیں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ مائیکل کوریلا کے ساتھ بھی دیکھا گیا۔
تاہم اس معاملے پر اسرائیل ڈیفنس فورسز یا خود ہرزی حلوی کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مذکورہ ہیکر گروپ نے اسرائیلی شخصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہو۔ اس سے قبل بھی یہ گروپ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ، سابق وزیر انصاف آیلیٹ شیکڈ اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی اہلکاروں کے آلات ہیک کرنے کے دعوے کر چکا ہے۔
تاحال ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اگر یہ درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ واقعہ اسرائیل کی سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔



