
لندن،14ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران میں نصابی کتابوں اوراسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کے حالیہ مطالعے کے مطابق اس کا مواد اسرائیل کے ’خاتمے‘پر زوردیتا ہے اورامریکہ کو’شیطان دشمن‘سمجھتا ہے۔ان کے علاوہ غیرملکیوں کوناقابل اعتمادقرار دیتا ہے۔انسٹی ٹیوٹ فارمانیٹرنگ پیس اینڈ کلچرل ٹالرینس اِن اسکول ایجوکیشن (امپیکٹ سی) نے ایرانی نصاب کے جائزے سے متعلق گذشتہ ماہ ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی۔اس سے پتاچلا ہے کہ ایرانی نصاب میں اسرائیل کے خلاف مکمل جنگ پر زوردیا گیا ہے تاوقتیکہ اس کاوجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے۔نصاب کے بعض مندرجات کے مطابق اسرائیل کا وجود ایران کی خطے میں بالادستی کی کوششوں میں حائل ہے۔
اسرائیل کی تباہی کو ایک مثالی اور حقیقت پسندانہ مقصد دونوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اس رپورٹ میں2021-2022 کے تعلیمی سال کی 100 سے زیادہ نصابی کتابوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق تدریسی مواد میں اسرائیل کی تباہی کو دنیا کی نجات کی طرف ایک قدم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ایران کی نصابی کتب میں امریکہ کو پیغمبروں اور قرآن کا دشمن اور ایک بزرگ شیطان قراردیا گیا ہے۔اس میں طلبہ کوغیرملکیوں پرعدم اعتماد کرنا سکھایا جاتا ہے اور نصاب غیرملکیوں کے خلاف بیان بازی سے لبریزہے۔نصابی کتب میں ایک تھریڈ ہے جو طلبہ میں غیر ملکیوں کے معاملے میں پیرانویا کا احساس پیدا کرتا ہے۔
اس میں غیرملکیوں کے خلاف بیان بازی کی گئی ہے۔ طلبہ کو ایک مشق تفویض کی جاتی ہے جس میں انھیں کہا جاتا ہے کہ وہ اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کے غیر ملکی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے طریقوں کی حکمت عملی تیارکریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے 1979 میں برپاشدہ اسلامی انقلاب کوتمام ممالک کے لیے ایک نمونہ کے طور پرسکھایا جاتا ہے ا ورعرب حکومتوں کو ناجائزادارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔نصاب میں گریڈ 11 کی ایک کتاب عصری ایران کی تاریخ کے عنوان سے شامل ہے۔



