تہران، 26ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران میں حالیہ احتجاج کی ایک وائرل ویڈیومیں نمودار ہونے والی ایک اورنوجوان خاتون کو مبینہ طورپر سکیورٹی فورسز نے گولی مار قتل کردیا ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی اطلاعات کے مطابق 23 سالہ خاتون حدیث نجفی کی اس ہفتے کے اوائل میں حکومت مخالف مظاہروں میں شامل ہونے کی تیاری کی ایک ویڈیو منظرعام پرآئی تھی اور یہ بہت جلد وائرل ہوگئی تھیں۔ایرانی صحافی فرزاد سیفی کران نے خبردی ہے کہ نجفی بدھ کے روز کرج شہر میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئی تھیں اور ان کے چہرے اور گردن پر کئی گولیاں لگی تھیں۔
سرگرم کارکنوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ مقتولہ نجفی وہی خاتون ہیں جووائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں حکومت مخالف مظاہروں میں شامل ہونے کی تیاری کررہی تھیں۔ان کے اہل خانہ نے اتوار کے روز ان کے جنازے کی فوٹیج جاری کی ہے۔ایران میں 16ستمبر کو نامناسب سرپوش اوڑھنے کی پاداش میں 22 سالہ مہسا امینی کی مذہبی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد سے پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔امینی کو13 ستمبر کواخلاقی پولیس نے مبینہ طور پرملک میں نافذالعمل لباس کے سخت ضابط اخلاق پرعمل نہ کرنے پرگرفتار کیا تھا۔ان کی ہلاکت کے واقعے کے ردعمل میں ایران کے مختلف شہروں میں رات کے وقت ہونے والے مظاہروں کے دوران میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور سینکڑوں کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔مہلوکین اور زخمیوں میں زیادہ ترمظاہرین ہیں لیکن ان میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
This Iranian woman is getting ready to stand face to face to security forces. Iranian regime have guns and bullets but they scared of our hair.
They killed #MahsaAmini for a bit of hair. Let’s have a Hair Revolution.
Our hair will bring down Islamic dictators. #مهسا_امینی pic.twitter.com/skjaPF63Ml— Masih Alinejad 🏳️ (@AlinejadMasih) September 24, 2022
تہران میں ’مرگ برآمر‘ کی گونج،ا سکولوں میں ہڑتال کی اپیل
تہران ، 26ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہرے پیر کو دسویں روز میں داخل ہو گئے۔ ابھی تک احتجاج میں کمی آنے کے آثار نظر نہیں آرہے۔ارن انٹرنیشنل نیٹ ورک کے مطابق ایرانی ٹیچرز یونینز کی کوآرڈینیٹنگ کونسل نے اساتذہ اور طلبا سے اسکول نہ جانے کی اپیل کردی۔ کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ عوامی مظاہروں کو دبانے، اسکولوں کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کرنے اور سڑکوں پر طلبہ اور مظاہرین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔اتوار کی شام تہران اور ملک کے شمال اور مغرب کے دیگر شہروں میں مذہبی ریاست مسترداور مرگ بر آمرکے نعروں کی گونج سنائی دی گئی۔
مظاہرین نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے حوالے سے موت کے نعرے لگائے۔16 ستمبر کو مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے شمال میں ایک صوبے میں 700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا۔پورے ملک میں گرفتار کئے گئے افراد کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔ایک تصدیق شدہ اطلاع کے مطابق اس احتجاجی لہر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز پر مشتمل 41 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق یہ تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے ،کیونکہ اوسلو میں قائم غیر سرکاری تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے اعلان کیا ہے کہ کم از کم 57 مظاہرین کو مار دیا گیا ہے۔
خیال رہے ایران میں حالیہ احتجاج 16 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک 22 سالہ خاتون مہسا امینی کو نامکمل حجاب کرنے کے الزام میں ایرانی اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا اور بعد میں دوران حراست مہسا امینی کی موت ہوگئی تھی۔مہسا کی موت کے بعد شروع ہونے والے یہ احتجاجی مظاہرے 2019 میں ایندھن کی قیمت میں اضافے کیخلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد سب سے بڑا احتجاج ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2019 کے ان مظاہروں میں 1500 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اب مہسا امینی کی موت کے بعد ایران بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔
لوگوں نے شخصی آزادیوں اور خواتین کے لباس سے متعلق پابندیوں پر غصہ کا اظہار کیا ہے۔ معاشی بحران اور حکومت کی جانب سے نافذ سخت قوانین سے بھی ایرانیوں میں اشتعال ہے۔ حالیہ مظاہروں میں خواتین نے بھی بڑے پیمانے پر حصہ لیا۔ بعض احتجاجی خواتین نے سروں پر لئے گئے دوپٹوں کو نذر آتش کرکے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ بعض خواتین نے سرعام اپنے بال کاٹ ڈالے۔ مشتعل ہجوم نے ایرانی سپریم لیڈر کے خاتمے کا بھی مطالبہ کردیا۔



