بین الاقوامی خبریںسرورق

’ایک قدم اور بڑھایا تو سخت جواب ملے گا‘، آبنائے ہرمز مشن پر ایران کی برطانیہ-فرانس کو دھمکی

’آبنائے ہرمز میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے‘، ایران کا برطانیہ اور فرانس کو سخت انتباہ

تہران 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے مسئلہ پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے خلیج فارس میں مشترکہ سیکورٹی مشن کی تیاریوں کے بعد ایران نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیز قدم کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جنگ ہو یا امن، آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنانا صرف اسلامی جمہوریہ ایران کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کسی بھی بیرونی طاقت کو اس معاملے میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کسی غیر قانونی کارروائی میں حصہ لیا تو ایرانی مسلح افواج سخت ردعمل ظاہر کریں گی۔

دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اس صورتحال پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرانس نے آبنائے ہرمز میں کسی جنگی تعیناتی کا منصوبہ نہیں بنایا۔ نیروبی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ مجوزہ مشن کا مقصد جنگی ماحول پیدا کرنا نہیں بلکہ بحری جہازوں کی سلامتی اور عالمی تجارت کے اہم راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں ایران کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

میکرون کے مطابق برطانیہ اور فرانس ایک ایسے بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل پر غور کررہے ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے، تاہم اس منصوبے کو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے مشروط قرار دیا جارہا ہے۔

خلیج فارس میں حالیہ دنوں کے دوران تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں نے عالمی طاقتوں کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ امریکہ نے بھی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اپنے بعض بحری رہنمائی اقدامات عارضی طور پر محدود کردیئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کی تیل سپلائی کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ادھر جنوبی کوریا کی جانب سے جاری تحقیقاتی تفصیلات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایک تجارتی جہاز پر دو نامعلوم فضائی آلات کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق حملے کے فوراً بعد جہاز میں زور دار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ اس واقعہ کے بعد پورے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی تیل منڈی، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی جہاز رانی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button