بین الاقوامی خبریںسرورق

ایرانی میزائل اور ڈرون طیارے روس اور ایران کیلئے مفید ثابت ہو سکیں گے؟

ایران نے اپنے ہاں مقامی سطح پر ہتھیاروں کی صنعت کھڑی کی ہے۔ یہ بین الاقوامی پابندیوں کا ایک توڑ کرنے کی بھی کوشش ہے۔ کیونکہ امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کے سبب ایران اسلحہ درآمد نہیں کر سکتا ہے۔

لندن، 20اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایران نے روس کو زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق میزائلوں کی یہ فراہمی پہلے سے دیے جانے والے ڈرونز کے علاوہ ہو گی۔ایران کی طرف روس کو میزائلوں کی فراہمی کا یہ وعدہ امریکہ اور یورپی ممالک کو مزید مشتعل کرنے کا باعث بنے گا۔ایرانی اسلحے سے روس کی یوکرین کے خلاف ناکام ہوتی جنگ کو تقویت دینے کا ذریعہ بنے گی۔جبکہ ایران کی مذہبی حکومت کو اس فیصلے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح سے کافی دباو کا سامنا ہو گا۔ اس سلسلے میں بعض پہلووں کا درج ذیل سوالوں کی صورت میں جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایران نے اپنے ہاں مقامی سطح پر ہتھیاروں کی صنعت کھڑی کی ہے۔ یہ بین الاقوامی پابندیوں کا ایک توڑ کرنے کی بھی کوشش ہے۔ کیونکہ امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کے سبب ایران اسلحہ درآمد نہیں کر سکتا ہے۔

میزائل اور ڈرون بھی درآمد نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اپنے ہاں بنائے گئے میزائل اور ڈرون اسے اپنے ازلی دشمن اسرائیل اور امریکہ سے احساس تحفظ بھی دیتے ہیں۔امریکہ جس نے خطے میں اپنے فوجی جگہ جگہ بٹھا رکھے ہیں۔ وہ اور مغربی مبصرین یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں ایران گاہے گاہے اپنی جنگی ہتھیار سازی کی صلاحیت کے معاملے میں مبالغے سے بھی کام لیتا ہے۔ تاہم ایران سمجھتا ہے کہ اس کے ڈرونز اس کے لیے سرحدی نگرانی کا ذریعہ ہیں۔خصوصا خلیج فارس کے پھیلے پانیوں میں آبنائے ہرمز تک کی نگرانی کے لیے غیر معمولی سہولت کا ذریعہ ہیں۔

دنیا میں تیل پیدا کرنے والا پانچواں ملک ہونے کے ناطے اپنی تیل کی بحفاظت ترسیل و تجارت کے لیے بھی یہ بہت مفید ہے۔ایران اور علاقے کی دوسری طاقتیں حالیہ برسوں میں یہ زیادہ احساس کرنے لگی ہیں کہ جب سے یمن، شام اور ایران میں ڈرون حملے شروع ہوئے ہیں اور جہاں جہاں ایران نے اپنی پراکسیز پھیلا رکھی ہیں۔ اس میں ایرانی میزائلوں کا کردار اہم رہا ہے۔سعودی عرب اور امریکہ یہ یقین رکھتے ہیں سعودی آئل ریفائنریز پر میزائل حملوں میں ایران ہی ملوث تھا۔ ایران تردید کرتا ہے۔ لیکن دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کے تیار کردہ ڈرون طیارے خطے میں سب سے زیادہ مؤثر اور مضبوط ہیں۔ یہ ڈرونز اس کی ضرورت کے تحت نگرانی میں بھی سب سے زیادہ مؤثر ہیں۔

ڈرون حملے: یورپی یونین ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گی

برسلز، 20اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیوں کا نیا پیکج یوکرین میں حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں تیار کیا گیا ہے۔ تاہم ایران نے روسی افواج کو اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔یورپی یونین کے چار سفارت کاروں اور ایک فرانسیسی اہلکار نے بتایا کہ یورپی یونین نے ایسی بعض نئی پابندیوں پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت روس کو فراہم کردہ ایرانی ساختہ ڈرون اور یوکرین کے خلاف ان کے استعمال پر، تہران میں حکام کو نشانہ بنایا جا سکے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوسیپ بوریل کی ترجمان نبیلہ مسرالی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ روس نے یوکرین کے خلاف جن ڈرونز کا استعمال کیا وہ ایران میں تیار کیے گئے تھے۔ انہوں نے ایک واضح، تیز اور مضبوط یورپی یونین کے رد عمل کی بات کی۔یورپی یونین کے رکن ممالک کی جانب سے اس بارے میں ایک باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی فوج بہت تیزی سے یوکرین کے شہروں پر حملے کے لیے ایرانی ساختہ شہید 136 ڈرونز تعینات کر رہی ہے۔لیکن ایرانی حکومت روسی افواج کو ہتھیار فراہم کرنے کی تردید کر رہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایران سے متعلق نئی پابندیوں کی ابتدائی فہرست دیکھی ہے، جس میں ایران کے اعلیٰ فوجی حکام اور ایرانی ڈرون بنانے والی کمپنی کے نام شامل ہیں۔یورپی یونین کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس سے عین قبل سامنے آیا۔ یہ اجلاس امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا، جس میں ڈرون حملوں پر بات چیت کی درخواست کی گئی تھی۔امریکہ کا استدلال ہے کہ یوکرین پر ایرانی ساختہ ڈرون حملے سن 2015 میں منظور کی گئی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی ہے۔

اس قرارداد کے تحت ایران کے روایتی ہتھیاروں کی فروخت پر سن 2020 میں اس کی میعاد ختم ہونے تک پابندی عائد کر دی گئی تھی، حالانکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی معیاد میں وسعت دینے کی کافی کوشش بھی کی تھی۔تاہم واشنگٹن کا کہنا ہے یہ قرارداد اکتوبر 2023 تک کسی بھی ایسی منتقلی پر پابندی جاری رکھنے کی بات کرتی ہے، جو جوہری صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائلوں کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہو اور جب تک سلامتی کونسل اجازت نہ دے اس وقت تک منتقلی کی اجازت نہیں ہے۔مغربی حکام کا ماننا ہے کہ یوکرین میں روسی افواج کے زیر استعمال ایرانی ہتھیاروں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ تقریباً نو ماہ کی جنگ کے بعد ماسکو کی افواج کے پاس ہتھیار پوری طرح سے ختم ہو چکے ہیں۔

مغرب ایرانی حکومت گرانے میں عوام کی مدد کرے، جلاوطن ایرانیوں کی اپیل

لندن، 20اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جلاوطنی میں رہنے والے حکومت مخالف ایرانی گروپس نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران پر مزید دباؤ ڈالتے ہوئے حکومت گرانے میں عوام کی مدد کریں۔خبرکے مطابق حکومت مخالف پارٹیوں کے اتحاد (نیشنل کونسل آف ریزسٹنس آف ایران) کے ارکان نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک بریفنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کو ایرانی سفارت خانے بند کرنے کے احکامات جاری کرنے چاہییں اور حکومت پر مزید پابندیاں لگانی چاہییں۔

ایران میں احتجاج کا سلسلہ تقریباً آٹھ ہفتے قبل حجاب کے معاملے پر مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔خاتون کی موت کے حوالے سے یہ بات یقینی تصور کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے تشدد سے ہوئی تاہم ایرانی حکومت اس سے انکار کرتی ہے۔خیال رہے کہ ایران پر 1979 کے انقلاب کے بعد سے مذہبی اسٹیبلشمنٹ حکومتی کرتی آ رہی ہے۔ اس کے بعد سے خواتین پابند ہیں کہ وہ لباس کے معاملے میں حکومتی احکامات کی تعمیل کریں اور حجاب کریں۔

نیشنل کونسل آ ف ریزسٹنس آف ایران (این سی آر آئی) کی امریکہ میں نمائندہ سونا سامسائی نے بریفنگ میں کہا کہ حالیہ احتجاج نے ماضی کی تمام تحریکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس کی قیادت نوجوان خواتین کر رہی ہیں جو حکومت کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے جمہوری انقلاب کی حمایت کرے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے رواں ماہ کہا تھا کہ ایران میں انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور امریکہ ایرانی عوام و خواتین کے ساتھ کھڑا ہے۔صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے ایرانی حکومت بنیادی آزادیوں سے انکار کرتی آ رہی ہے اور تشدد کے ذریعے عوام کو دباتی رہی ہے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیس نے امریکی صدر پر الزام لگایا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے بہانے ایرانیوں کو حکومت کے خلاف اکسانے اور ایرانی معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔این سی آر آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی رضا جعفرزادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کی اس وقت کوشش ہے کہ احتجاج کو کسی نہ کسی طرح کْچلا اور مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ہمیں موصول ہونے والی سینکڑوں رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سادہ کپڑوں میں پاسداران انقلاب کے اہلکار احتجاج کرنے والوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button