اسرائیل سے پہلی مرتبہ یورپ کیلئے خام تیل کی برآمد کا آغاز
اسرائیل سے پہلی مرتبہ یورپ کے لیے خام تیل برآمد کی سپلائی شروع کی گئی ہے
مقبوضہ بیت المقدس، 16فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیل سے پہلی مرتبہ یورپ کے لیے خام تیل برآمد کی سپلائی شروع کی گئی ہے۔ یورپ کے لیے تیل پر مبنی پہلی کارگو کھیپ کاریش نامی تیل کے کنویں سے بھیجی گئی۔اسرائیل کئی برسوں سے قدرتی گیس بیرون ملک برآمد کرتا چلا آیا ہے، تاہم تیل کی برآمد کا تجربہ اس سے قبل نہیں کیا گیا۔ بحر متوسطہ میں کیرش کے مقام پر ذخائر سے تیل نکالنے کا کام اینرجئین کمپنی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جہاں سے گذشتہ برس سے گیس کی برآمد کا سلسلہ جاری تھا۔یاد رہے کہ اسرائیل متعدد سالوں سے قدرتی گیس برآمد کرتا چلا آ رہا ہے اور کثیر مقدار میں تیل پیدا نہیں کر سکا۔ بحیرہ روم کے مشرق میں کریش زخائر کو انیرجئین کا سب سے اہم پراجیکٹ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ برس سے یہاں سے گیس نکالی جا رہی ہے۔انرگین کمپنی نے اپنے لندن صدر دفتر سے جاری ایک بیان میں بتایا کہ کمپنی کے کیریش آئل فیلڈ سے خام تیل کا پہلا کارگو اسرائیل سے یورپ برآمد کیا گیا ہے۔
اسرائیل سے یورپ کے لئے تیل کی درآمد وائیٹول نامی کمپنی کے ساتھ کئی کارگو مارکیٹنگز کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کی سمندری حد پر واقع فیلڈ سے تیل کی ترسیل اس وقت ممکن ہوئی جب گذشتہ برس اکتوبر میں امریکی ثالثی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کی سمندری حدود کا تنازع طے پایا۔ کاریش پروڈکشن نے اسرائیلی گیس کی صنعت کو بڑھاوا دیا ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیل کی تقدیر بدلنے دے گی۔ تل ابیب کا ماضی میں گذر اوقات صرف اشیاکی درآمدات پر تھا۔اس بات سے قطع نظر کہ اسرائیل اب تیل برآمد کرنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے تاہم صہیونی ریاست کی توانائی ضروریات پورا کرنے کے لئے اسرائیل اب بھی تیل کی درآمد پر تکیہ کرنے پر مجبور ہے۔ اگرچہ دنیا میں ہلکے خام تیل کی عالمی سطح پر بڑی ڈیمانڈ ہے لیکن انیرگین کے بقول اسرائیل کی توجہ فی الحال گیس برآمد پر مرکوز رہے گی۔



