یروشلم :مغربی کنارے میں یہودی عبادت گاہ پر حملہ، سات یہودی ہلاک-حملہ آور شہید
یروشلم کی ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم سات یہودی ہلاک
مقبوضہ بیت المقدس، 28جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) حکام کے مطابق جمعہ کے روز اسرائیل کے زیر کنٹرول مشرقی یروشلم کی ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور کم از کم تین زخمی ہوئے ہیں، جب کہ مسلح حملہ آور بھی موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی شام تقریباً 8:30 بجے ، ایک دہشت گرد یروشلم میں نیو یاکوف بلیوارڈ میں واقع ایک سینیگاگ (یہودی عبادت گاہ) پہنچا اور اس نے وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ کر دی۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، یہ حملہ مغربی کنارے کے ایک پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوجیوں کے حملے کے ایک روز بعد ہوا ہے، جس میں نو فلسطینی شہید ہوئے تھے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اورمبینہ حملہ آوروں پرقابو پانے کے لیے اس پر فائرنگ کی اور صورت حال پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
پولیس کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔پولیس کو جائے وقوعہ پر ایک سفید گاڑی ملی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حملہ آور کی تھی۔ایمرجنسی رسپانس ایجنسی کے مطابق کل 10 افراد گولیوں کا نشانہ بنے ، جن میں ایک 70 سالہ شخص اور ایک 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔عبادت گاہ کے قریب رہنے والے ایک 18 سالہ طالب علم ماتنیل المالم نے جائے وقوعہ پر اے ایف پی کو بتایاکہ اس نے بہت سی گولیاں چلنے کی آوازیں سنی ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق،تشدد کا یہ سلسلہ اسرائیل کی نئی حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، خصوصا ایک ایسے وقت میں جب امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے یہودی عبادت گاہ کے باہر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردری کا اظہار کیا ہے۔



