
"وہ میری بیوی نہیں” کہنے والے ٹیچر کی اپیل خارج، ہائی کورٹ نے 20 سالہ شادی تسلیم کر لی
شوہر نے سرکاری نوکری ملنے کے بعد شادی سے انکار کرتے ہوئے خاتون کو اپنی بیوی ماننے سے انکار کیا،
رانچی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے تقریباً 20 سال پرانے ازدواجی تنازع میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ایک سرکاری ٹیچر کی اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ شوہر اپنی بیوی کو بلاجواز چھوڑنے کا مرتکب ہوا ہے اور اسے ازدواجی زندگی بحال کرنے کے لیے بیوی کے ساتھ صلح کرنے کی ہدایت دی۔
یہ مقدمہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب ٹیچر نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ متعلقہ خاتون اس کی بیوی نہیں ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمت ملنے کے بعد گاؤں کے چند افراد نے سازش کے تحت ایک خاتون کو اس کی بیوی ظاہر کرنا شروع کر دیا۔
تاہم جب معاملہ ہائی کورٹ پہنچا تو سرکاری دستاویزات، ووٹر لسٹ، آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور متعدد گواہوں کے بیانات نے ٹیچر کے دعوے کو کمزور کر دیا۔
عدالت میں خاتون نے بتایا کہ تقریباً 20 سال قبل دونوں کی شادی ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی تھی، جس کے بعد وہ اپنے سسرال میں رہنے لگی۔ ابتدائی عرصہ خوشگوار گزرا، لیکن بعد میں شوہر کے اپنی بھابھی کے ساتھ مبینہ ناجائز تعلقات قائم ہو گئے، جس کے باعث ازدواجی زندگی متاثر ہوئی۔
خاتون نے الزام لگایا کہ اسے ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا اور 2015 میں گھر سے نکال دیا گیا۔ اس کے باوجود اس نے طلاق کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اپنے گھر کو بچانے کی غرض سے فیملی کورٹ میں ازدواجی تعلقات کی بحالی (Restitution of Conjugal Rights) کی درخواست دائر کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ خاتون کے آدھار کارڈ، ووٹر لسٹ اور دیگر سرکاری ریکارڈ میں ٹیچر کا نام بطور شوہر درج ہے۔ اس کے علاوہ کئی عینی شاہدین نے بھی گواہی دی کہ دونوں برسوں تک میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہتے رہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیچر اپنے دعوے کے حق میں کوئی مضبوط یا قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ اس لیے عدالت نے قرار دیا کہ اس نے بغیر کسی معقول وجہ کے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا اور فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی اپیل خارج کر دی۔



