کیجریوال پر توہین عدالت کیس، جسٹس تیجس کریا سماعت سے الگ
عدالتی کارروائی کے ویڈیو کلپس بغیر اجازت سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے گئے۔
نئی دہلی 22 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ میں اروند کیجریوال کے خلاف توہین عدالت سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس تیجس کریا نے خود کو کیس سے الگ کر لیا۔ یہ معاملہ ایک مفاد عامہ کی عرضی سے متعلق ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی کے ویڈیو کلپس بغیر اجازت سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے گئے۔
چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ یہ کیس اب اس بنچ کے سامنے نہیں سنا جائے گا اور اسے ایسے بنچ کے سامنے پیش کیا جائے گا جس میں جسٹس کریا شامل نہ ہوں۔ عدالت کا یہ فیصلہ عدالتی غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کے تناظر میں اہم مانا جا رہا ہے۔
یہ عرضی ایڈوکیٹ ویبھو سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ 13 اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران جب اروند کیجریوال عدالت میں پیش ہوئے، اس کارروائی کو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ اس عمل سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ایسی ویڈیوز ہٹائی جائیں اور سیاست دانوں کو مستقبل میں اس طرح کا مواد شیئر کرنے سے روکا جائے۔ ساتھ ہی اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
درخواست میں کئی اہم شخصیات کو فریق بنایا گیا ہے جن میں اروند کیجریوال، منیش سسودیا، سنجے سنگھ، ڈگ وجے سنگھ اور صحافی رویش کمار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ Meta Platforms، Google LLC اور X Corp کو بھی کیس میں شامل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جسٹس سوارن کانت شرما نے کیجریوال کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں انہوں نے شراب پالیسی کیس کی سماعت سے جج کے الگ ہونے کی اپیل کی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ الزامات محض شبہات پر مبنی ہیں اور ان کے حق میں کوئی مضبوط ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں عدلیہ، سوشل میڈیا اور سیاست کے تعلق پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔



