بین ریاستی خبریں

ہندو خاتون اور مسلمان نوجوان کی شادی روکنے کی کوشش، کلکتہ ہائی کورٹ نے پولیس کو سکیورٹی کا حکم دے دیا

10 برس سے تعلق میں رہنے والے جوڑے کو مبینہ دھمکیوں کے بعد عدالت سے رجوع کرنا پڑا

کولکتہ، 29 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): مغربی بنگال میں ایک ہندو خاتون اور مسلمان نوجوان کی بین المذاہب شادی کو مبینہ دھمکیوں کے باعث درپیش مشکلات کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ نے اہم حکم جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ شادی کے دن جوڑے کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ دونوں بالغ افراد اپنی مرضی سے شادی کرنے کا قانونی حق رکھتے ہیں اور ان کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

ہاوڑہ کے ایک علاقے سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ پرائیوٹ ٹیوٹر اور 35 سالہ تاجر گزشتہ دس برس سے زائد عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ رشتے میں ہیں۔ دونوں خاندان ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں اور طویل عرصے تک ان کے تعلقات معمول کے مطابق رہے، تاہم جب انہوں نے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کا فیصلہ کیا تو مبینہ طور پر مختلف گروہوں کی جانب سے مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس صورتحال کے بعد جوڑے نے اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے اولوبیریا پولیس اسٹیشن کے انچارج کو حکم دیا کہ شادی کے موقع پر فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ عدالت نے پولیس کو شادی کے سات روز کے اندر حفاظتی اقدامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔

عدالتی حکم کے باوجود خاتون نے بتایا کہ مسلسل دھمکیوں کی وجہ سے شادی کی خوشیاں خوف میں بدل گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے لیے بڑی راحت ہے، لیکن اہل خانہ کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے شادی میں شرکت نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق تقریب انتہائی سادہ اور محدود پیمانے پر منعقد کی جائے گی۔

خاتون نے بتایا کہ 22 جولائی کے آس پاس جب ان کی شادی کی اطلاع عام ہوئی تو خود کو ایک ہندوتوا تنظیم سے وابستہ بتانے والے دو افراد ان کے گھر پہنچے اور شادی منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالا۔ انکار کے بعد انہوں نے پولیس کو ای میل کے ذریعے شکایت بھیجی۔ ان کا الزام ہے کہ اگلے ہی دن ان کے والد کو دکان سے زبردستی لے جایا گیا، جہاں ان سے تحریری یقین دہانی طلب کی گئی کہ ان کی بیٹی شادی نہیں کرے گی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انکار پر خاندان کو گھر اور دکان جلانے تک کی دھمکیاں دی گئیں۔

صورتحال مزید سنگین ہونے پر خاتون کو اپنی چھوٹی بہنوں اور دیگر اہل خانہ کی حفاظت کے لیے گھر چھوڑنا پڑا۔ ان کے مطابق بعد میں چند نامعلوم افراد ان کے والدین کے گھر پہنچے اور مبینہ طور پر ایک حلف نامے پر دستخط کرائے، جس میں انہیں علاقے میں واپس نہ آنے کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان حالات کے بعد خاتون نے 24 جولائی کو کلکتہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی، جبکہ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ نوجوان اور اس کے خاندان کو بھی اسی نوعیت کی ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

عدالتی کارروائی کے دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل راجدیپ مجمدار نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس پہلے ہی حفاظتی انتظامات کر چکی ہے اور معاملہ خاندانی نوعیت کا ہے، تاہم جوڑے کے وکیل بیکاش رنجن بھٹاچاریہ نے عدالت کو بتایا کہ رکاوٹ خاندان کی طرف سے نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ تنظیم کی جانب سے پیدا کی جا رہی ہے، جس نے شادی رجسٹرار کے نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔

خاتون نے واضح کیا کہ ان کی شادی میں نہ کسی قسم کا مذہب تبدیل کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان پر کوئی دباؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہیں گی جبکہ ان کے ہونے والے شوہر اپنے مذہب پر عمل کریں گے، اس لیے بیرونی افراد کو ان کے ذاتی فیصلے میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے تمام امیدیں کھو دی تھیں، لیکن ہائی کورٹ کے حکم کے بعد انہیں انصاف ملنے کی امید دوبارہ پیدا ہوئی ہے۔

دوسری جانب اولوبیریا پولیس اسٹیشن کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ عدالت کے حکم پر مکمل عمل کیا جائے گا اور شادی کی تقریب کے دوران جوڑے کو کسی بھی قسم کی پریشانی یا ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہیں کرنے دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button