قومی خبریں

زمین کے بدلے نوکری کیس: سپریم کورٹ نے لالو یادو کی عرضی خارج کر دی

سپریم کورٹ نے لالو پرساد یادو کو بڑی راحت دی، پیشی سے چھوٹ مگر عرضی مسترد

نئی دہلی 13 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو زمین کے بدلے نوکری کیس میں ملی جلی راحت دیتے ہوئے ایک جانب انہیں ٹرائل کورٹ میں ذاتی حاضری سے استثنیٰ فراہم کر دیا، جبکہ دوسری جانب سی بی آئی کی ایف آئی آر اور چارج شیٹ کو منسوخ کرنے کی ان کی عرضی مسترد کر دی۔

عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ لالو یادو کی ذاتی پیشی ضروری نہیں ہے اور وہ مقدمے کی کارروائی کے دوران نچلی عدالت میں حاضری سے مستثنیٰ رہیں گے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ کیس کو اس مرحلے پر ختم نہیں کیا جا سکتا اور قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار مقدمے کے دوران اہم قانونی نکات، خاص طور پر انسداد بدعنوانی قانون کی دفعہ 17A کے اطلاق سے متعلق سوالات، ٹرائل کورٹ میں اٹھا سکتے ہیں۔

لالو یادو نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سی بی آئی نے بغیر پیشگی سرکاری منظوری کے انکوائری شروع کی، ایف آئی آر درج کی اور تفتیش کی، جو کہ قانون کے مطابق لازمی تھی۔ عدالت نے کہا کہ یہ سوال کہ دفعہ 17A ماضی کے معاملات پر لاگو ہوتی ہے یا نہیں، ٹرائل کے دوران ہی طے کیا جائے گا۔

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے بھی 24 مارچ کو سی بی آئی کی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانونی طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے اور پیشگی منظوری نہ ہونے کا مؤقف قابل قبول نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق دفعہ 17A، جو 2018 میں نافذ ہوئی، ماضی کے معاملات پر لاگو نہیں ہوتی جبکہ یہ کیس 2004 سے 2009 کے درمیان کا ہے۔

یہ معاملہ بھارتی ریلوے کے ویسٹ سینٹرل زون، جبل پور میں گروپ ڈی کی نوکریوں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ امیدواروں کو نوکریوں کے بدلے زمین کے پلاٹس دیے گئے جو مبینہ طور پر لالو یادو کے خاندان یا قریبی افراد کے نام منتقل کیے گئے۔

سی بی آئی نے 18 مئی 2022 کو اس کیس میں لالو یادو، ان کی اہلیہ، دو بیٹیوں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ بعد ازاں جنوری میں عدالت نے چارج فریم کرنے کا حکم دیا جبکہ فروری میں باضابطہ طور پر الزامات عائد کیے گئے۔

لالو یادو اور دیگر ملزمان اس وقت ضمانت پر ہیں اور انہوں نے خود پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد جہاں انہیں فوری راحت ملی ہے، وہیں کیس برقرار رہے گا اور اس سے متعلق اہم قانونی نکات کا فیصلہ اب ٹرائل کے دوران کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button