بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکہ اپنے ہی اتحادیوں کی جاسوسی کرتا پکڑا گیا

لیکس دستاویزات قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں: پنٹاگان

واشنگٹن ،11؍اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ اپنے ہی اتحادیوں کی جاسوسی کرتا پکڑا گیا، امریکی افواج کی سرگرمیوں سے متعلق خفیہ دستاویزات پینٹاگون سے لیک ہو گئیں۔لیک ہونے والی حساس امریکی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ نے جنوبی کوریا، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق خفیہ معلومات جمع کیں۔مبینہ طور پر روس میں موجود وسیع امریکی انٹیلی جنس نیٹ ورک کی تفصیلات بھی منظرِ عام پر آگئی ہیں۔حساس دستاویزات میں امریکی اتحادی ممالک اور روس یوکرین جنگ سے متعلق معلومات موجود ہیں۔حساس دستاویزات کے مطابق امریکہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کی جاسوسی کرتا رہا ہے۔دستاویزات میں اعلیٰ جنوبی کورین حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔دستاویزات میں روس میں موجود وسیع امریکی انٹیلی جنس نیٹ ورک کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا یوکرین جنگ میں روسی حکمتِ عملی کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔

حساس دستاویزات کے افشاء پر مختلف ممالک کا ردِعمل بھی سامنے آیا ہے، یوکرین نے دستاویزات کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یوکرین حکومت نے امریکی حکام سے واقعے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔روس کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ لیک دستاویزات نے امریکی صدر جو بائیڈن کی یوکرین پالیسی پر اندرونی اختلافات کو بے نقاب کیا ہے، دستاویزات یوکرین جنگ میں امریکی مداخلت کا کھلا ثبوت ہیں۔

لیکس دستاویزات قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں: پنٹاگان

پنٹا گون نے لیک دستاویزات کو قومی سلامتی کے لیے انتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا اور اس کی تحقیقات شروع کر دیں۔ ترجمان پنٹاگون نے کہا ہے کہ دستاویزات میں موجود معلومات سے لوگوں کی جانیں جاسکتی ہیں، تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا افشا ہونے والی دستاویزات اصل ہیں یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ خدشات موجود ہیں کہ مزید تفصیلات لیک ہوسکتی ہیں۔امریکی وزیرِ دفاع کے معاون کرس میہر نے پیر کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ وزیر دفاع لائڈ آسٹن کو پہلی مرتبہ جمعرات کو اس بات کا علم ہوا کہ یوکرین جنگ میں امریکی فوجی کوششوں اور دیگر ممالک کی شامل انٹیلی جنس کی تفصیلات فراہم کرنے والی خفیہ بریفنگ سلائڈز لیک ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خفیہ دستاویزات کے لیکس ہونے کے بعد وزیرِ دفاع اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور انہوں نے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے روزانہ اجلاس کیے ہیں۔

کرس میہر کے مطابق محکمہ دفاع اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ اس قسم کی معلومات کس طرح اور کسے پہنچائی گئی ہیں۔ان کے بقول، لیکس دستاویزات کے معاملے پر ایک گروپ تشکیل دیا ہے جو نہ صرف معلومات کے لیک ہونے کے نقصان کا جائزہ لے گا بلکہ یہ جائزہ بھی لے گا کہ اس تک کسے رسائی حاصل ہے۔لیک ہونے والی سلائڈز میں یوکرین کی حمایت کے لیے امریکی تربیت اور سازو سامان کا شیڈول، نقصانات کا اندازہ، امریکہ اپنے اہم اتحادیوں اور شراکت داروں پر کیا نگرانی کر رہا ہے اور ان تعلقات کو کمزور کرنے کے لیے روس کیا اقدامات لے سکتا ہے، جیسی تفصیلات شامل ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع کے معاون کے مطابق محکمہ انصاف بطور مجرمانہ تفتیش معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ان کے بقول جیسے کہ یہ دستاویزات آن لائن پھیل رہی ہیں وہ قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں اور یہ غلط معلومات پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔کرس میہر نے مزید کہا کہ انتہائی حساس مواد کا افشاء ہونا نہ صرف قومی سلامتی پر سنگین اثر ڈال سکتا ہے بلکہ اس سے لوگوں کی جانیں بھی جاسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ دفاع اور امریکی حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور یہ ہماری اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button