بین الاقوامی خبریں

دس سال سزا پانے والے للا دی سلوا دوبارہ برازیل کے صدر منتخب

برازیل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) برازیل میں کرپشن اور منی لانڈرنگ پر 10 سال قید کی سزا پانے والے لولا ڈی سلوا دوبارہ صدر منتخب ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق سابق صدر لولا ڈی سلوا نے موجودہ صدر اور دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے بولسونارو کے خلاف 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے۔

نومنتخب صدر لولا ڈی سلوا نے 2003 سے 2010 تک برازیل کے صدر کی حیثیت سے کافی مقبولیت حاصل کی تھی۔انہیں منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت 2017 میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور2018 میں اسی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔لولا ڈی سلوا کو برازیل کی سپریم کورٹ نے2019 میں نظربندی سے رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تھا کہ انہیں مناسب عدالتی کارروائی کا موقع نہیں دیا گیا۔

سابق صدر لولا ڈی سلوا نے انتہائی دائیں بازو کے موجودہ صدر بولسونارو کو شکست دے کر ایک بار پھر سے عہدہ صدارت حاصل کر لیا۔ تلخ انتخابی مہم کے بعد انہوں نے عوام سے امن اور اتحاد کی اپیل کی ہے۔برازیل کے انتخابی کمیشن سپریم الیکٹورل کورٹ (ٹی ایس ای) کے مطابق بائیں بازو کے تجربہ کار سیاستدان لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا نے اتوار کے روز برازیل کے صدارتی انتخابات میں 50.9 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے ساتھ ہی انتہائی دائیں بازو کے برسراقتدار جیئر بولسونارو کو شکست دے دی۔

بولسونارو برازیل کے ایسے پہلے صدر ہیں، جو سن 1985 میں ملک میں جمہوریت کی واپسی کے بعد سے دوبارہ انتخاب میں کامیاب نہیں ہو پائے، حالانکہ ابھی تک انہوں نے اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا بولسونارو ان انتخابی نتائج کو قبول کریں گے یا نہیں، کیونکہ کہ انہوں نے پہلے ہی اس طرح کی باتیں کہی تھیں کہ اگر وہ الیکشن ہار گئے تو وہ دھوکہ دہی اور فراڈ ہونے کا دعویٰ کریں گے۔

لولا ڈی سلوا نے اپنی انتخابی کامیابی کے بعد ساؤ پاؤلو میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج واحد فاتح برازیل کی عوام ہے۔ یہ میری یا ورکرز پارٹی کی جیت نہیں ہے، ان پارٹیوں کی نہیں ہے جنہوں نے انتخابی مہم میں میرا ساتھ دیا، یہ تو ایک جمہوری تحریک کی فتح ہے، جو سیاسی اختلافات، ذاتی مفادات اور نظریات سے بالاتر ہو کر ایک ساتھ جمع ہوئی تاکہ جمہوریت کی فتح ہو سکے۔

لولا نے تلخ انتخابی مہم کے بعد امن اور اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ بھوک سے نپٹیں گے اور اپنے عہدے پر رہنے کے دوران ایمیزون کے جنگلات کو محفوظ رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ برازیل واپس آ گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک موسمیاتی بحران، خاص طور پر ایمیزون کے خلاف جنگ میں اپنی جگہ واپس لینے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ تجارتی معاہدوں کے بجائے ایک منصفانہ عالمی تجارت کی کوشش کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button