قومی خبریں

ممتا بنرجی کی پارٹی میں بغاوت کا خطرہ۔احتجاجی پروگرام میں کم شرکت نے بڑھائی قیاس آرائیاں

احتجاجی پروگرام میں کم حاضری نے پارٹی کے اندر اختلافات کی خبروں کو مزید تقویت دے دی

کولکاتا 20 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس میں اختلافات اور ممکنہ ٹوٹ پھوٹ کی قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگی ہیں۔ بدھ کو پارٹی کے پہلے بڑے احتجاجی پروگرام میں کئی اراکین اسمبلی کی غیر موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔

ترنمول کانگریس کے اراکین اسمبلی کے ایک گروپ نے اسمبلی احاطے میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کے قریب دھرنا دیا۔ احتجاج میں انتخابات کے بعد مبینہ تشدد، ہاکروں کے خلاف کارروائی اور تجاوزات ہٹانے کی مہم کے خلاف آواز بلند کی گئی۔ پندرہ برس اقتدار میں رہنے کے بعد اپوزیشن بنچوں میں پہنچنے کے بعد یہ پارٹی کا پہلا بڑا منظم احتجاج تھا۔

احتجاج میں شوبھندیب چٹوپادھیائے، نینا بنرجی، کنال گھوش اور رتبرتا بنرجی سمیت کئی اہم قائدین شریک ہوئے۔ تاہم 80 میں سے صرف 35 اراکین اسمبلی کی شرکت نے پارٹی کے اندرونی حالات پر سوالات کھڑے کر دیے۔

سینئر رکن اسمبلی شوبھندیب چٹوپادھیائے نے اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کئی اراکین اسمبلی انتخابات کے بعد تشدد سے متاثرہ علاقوں میں کارکنوں کے ساتھ مصروف تھے جبکہ پروگرام کا اعلان بھی مختصر وقت میں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں کے اراکین شریک نہیں ہوسکے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق کالی گھاٹ میں منگل کو ہونے والی اہم میٹنگ میں کئی اراکین اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی صرف اندرونی اجلاسوں سے خود کو مضبوط نہیں بنا سکتی بلکہ عوام کے درمیان جا کر دوبارہ رابطہ قائم کرنا ضروری ہے۔ اس اجلاس میں ابھیشیک بنرجی بھی شریک تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اراکین اسمبلی نے انتخابی شکست کے بعد قیادت کی جانب سے عوامی سطح پر احتجاجی سرگرمیاں شروع نہ کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا ماننا تھا کہ بند کمروں میں اجلاس کرنے سے کھوئی ہوئی سیاسی حمایت واپس حاصل نہیں کی جاسکتی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق قیادت کی تبدیلی کے بعد پارٹی کے پہلے بڑے احتجاج میں کم حاضری ایک اہم سیاسی اشارہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی پارٹی کے لیے مؤثر اپوزیشن کے کردار میں منتقل ہونا آسان نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس طرح کے مناظر ایسے وقت میں اہم پیغام دیتے ہیں جب پارٹی اپنی سیاسی ساکھ اور تنظیمی اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button