سرورققومی خبریں

بھانجی کی شادی میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل منظور احمد کویت میں جاں بحق

منظور احمد کی اچانک موت نے ایک خوشیوں بھرے گھر کو غم میں تبدیل کر دیا۔

اجین  06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں ایک گھر شادی کی خوشیوں میں مصروف تھا، لیکن چند لمحوں میں یہ خوشیاں غم میں بدل گئیں۔ کویت میں گزشتہ تقریباً تیس برس سے درزی کے طور پر کام کرنے والے منظور احمد ڈرون حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ وہ اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کے لیے بھارت واپس آ رہے تھے۔

منظور احمد کویت سے ممبئی کے لیے پرواز پکڑنے والے تھے اور وہاں سے ٹرین کے ذریعے اجین پہنچنا تھا۔ روانگی سے ایک دن قبل انہوں نے اپنے 18 سالہ بیٹے انس احمد کو فون کرکے ریلوے اسٹیشن آنے کو کہا تھا۔

اہل خانہ ان کی آمد کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ چونکہ وہ تقریباً سات ماہ بعد گھر واپس آ رہے تھے، اس لیے خاندان نے ان کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے۔ تاہم 3 جون کو اطلاع ملی کہ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے میں وہ جاں بحق ہوگئے ہیں۔

منظور احمد اپنے پیچھے اہلیہ، ایک بیٹا، دو بیٹیاں اور ضعیف والدہ کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے برادرِ نسبتی محمد اسماعیل نے کہا کہ منظور احمد ہی پورے خاندان کے واحد کفیل تھے اور ان کی اچانک موت نے گھر کو شدید مالی اور ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

جمعہ کو ان کی میت بھارت پہنچنے کے بعد اہل خانہ نے جسد خاکی کو اجین منتقل کیا جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

دوسری جانب وزارتِ خارجہ نے کویت کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آبادی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ وزارت نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button