بیوہ ماں کا الزام: رشوت نہ دینے پر ڈاکٹر نے میری بیٹی کی آپریشن شدہ ہڈی دوبارہ توڑ دی
ڈی ایم سے شکایت کرنا مہنگا پڑا؟ ڈاکٹر پر بچی کی جوڑی گئی ہڈی دوبارہ توڑنے کا الزام
مظفر نگر، 04 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع اسپتال سے طبی لاپروائی اور مبینہ بدسلوکی کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک بیوہ خاتون ریشماں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے نے اس کی 14 سالہ ذہنی معذور بیٹی کے علاج کے لیے رقم طلب کی اور شکایت کے بعد انتقامی رویہ اختیار کرتے ہوئے بچی کی آپریشن شدہ ہڈی کو دوبارہ نقصان پہنچایا۔
ریشماں کے مطابق اس کی بیٹی کی دائیں ٹانگ ایک حادثے میں ٹوٹ گئی تھی، جس کے بعد وہ علاج کے لیے ضلع اسپتال پہنچی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے آپریشن کے لیے 25 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ اس نے اپنی مالی مجبوریوں کا حوالہ دیتے ہوئے رقم ادا کرنے سے معذوری ظاہر کی، تاہم مبینہ طور پر اسپتال عملے نے بغیر رقم کے علاج سے انکار کر دیا۔
ریشماں کا کہنا ہے کہ اس نے اس معاملے میں ضلع مجسٹریٹ سے رجوع کیا، جس کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے چیف میڈیکل آفیسر کو بچی کا مفت علاج یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ خاتون کے مطابق اس شکایت کے بعد بعض ڈاکٹر ناراض ہوگئے اور اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔
خاتون نے الزام لگایا کہ بعد میں اس نے 8 ہزار روپے کا انتظام کیا اور باقی رقم بعد میں ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد آپریشن کیا گیا۔ چند روز بعد معائنے کے لیے اسپتال پہنچنے پر ایک ڈاکٹر نے معائنہ کے دوران بچی کی ٹانگ کو زور سے مروڑا، جس سے شدید درد کے ساتھ ہڈی کے دوبارہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
ریشماں کے مطابق گھر واپس آنے کے بعد بچی کی ٹانگ میں شدید سوجن پیدا ہوگئی اور اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔ بعد ازاں ایک نجی مرکز سے کرائے گئے ایکسرے میں مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ جو ہڈی پہلے جوڑی گئی تھی وہ دوبارہ ٹوٹ چکی ہے۔
متاثرہ خاتون اب انصاف کے حصول کے لیے ضلع کلکٹریٹ کے چکر لگا رہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف میڈیکل آفیسر سنیل تیوتیہ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات میں کسی ڈاکٹر یا ملازم کی غفلت، بدعنوانی یا غیر قانونی رقم وصول کرنے کی تصدیق ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
DM ने मुफ्त इलाज का आदेश दिया, पैसे नहीं मिले तो डॉक्टर ने हड्डी जोड़ने के बाद फिर से तोड़ दी!!
मामला पढ़िए 👇
यूपी के मुजफ्फरनगर में रेशमा का आरोप है कि वह मानसिक रूप से अस्वस्थ अपनी बच्ची को लेकर सरकारी अस्पताल गई.
वहां डॉक्टर ने पैर के ऑपरेशन के लिए ₹25,000 मांगे. महिला… pic.twitter.com/STO4DasCDr
— Govind Pratap Singh | GPS (@govindprataps12) June 4, 2026



