لبنان اسرائیل مذاکرات: نعیم قاسم پورے لبنان کے نمائندہ نہیں، ایران اپنے مفادات کے لیے ہمیں استعمال کر رہا: لبنانی صدر
جوزف عون کے ایران مخالف بیان پر عباس عراقچی کا ردعمل، لبنان کو ’حقیقی دشمن‘ پر توجہ دینے کا مشورہ
بیروت، 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی نئی سفارتی کوششوں کے دوران لبنانی صدر جوزف عون نے حزب اللہ کے مؤقف سے کھلے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم پورے لبنانی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہی کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام لانے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔
ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر جوزف عون نے ایران کو بھی واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کے قومی مفادات کو کسی بیرونی طاقت کے سیاسی یا علاقائی مقاصد کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی عوام برسوں سے علاقائی تنازعات کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ لبنان کو اپنے فیصلے خود کرنے دیے جائیں۔
صدر عون کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری مذاکرات نے ایک اہم سفارتی مرحلے کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو موجودہ مذاکرات ایک منصفانہ اور دیرپا امن معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف عسکری کارروائیوں سے شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان میں مستقل امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
لبنانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط دشمنی کا خاتمہ خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی قیادت کے ساتھ کسی بھی براہِ راست سیاسی ملاقات کا امکان اسی صورت پیدا ہوگا جب جنگ کے خاتمے اور سکیورٹی انتظامات پر قابلِ قبول معاہدہ طے پا جائے۔
ادھر لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری جنگ دراصل لبنان کی اپنی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے علاقائی مذاکرات یا سفارتی مقاصد کے لیے لبنان اور اس کے عوام کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہ کرے۔ ان کے مطابق جنوبی لبنان کے شہری مسلسل عدم استحکام اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے امریکی ثالثی میں پیش کی گئی جنگ بندی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے جنوبی لبنان سے حزب اللہ کے انخلا کی مخالفت کی اور پورے ملک میں مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی افواج کو تمام متنازع علاقوں سے واپس جانا ہوگا۔
اسی دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی نے بھی حزب اللہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ان علاقوں تک واپس جانا چاہیے جہاں وہ حالیہ کشیدگی سے قبل موجود تھا۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے فوری انخلا کا ارادہ نہیں رکھتی اور سکیورٹی خطرات برقرار رہنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے چار ادوار کے بعد سامنے آنے والی تجاویز کے مطابق حزب اللہ جنوبی علاقوں سے پیچھے ہٹے گی، شمالی اسرائیل پر حملے بند کرے گی اور لبنانی فوج حساس علاقوں میں تعینات ہوگی۔ اس کے بدلے اسرائیلی افواج مرحلہ وار بعض دیہات سے انخلا کریں گی جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی بھی دی جائے گی۔
ان بیانات کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر جوزف عون کے مؤقف پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ سماجی رابطے کے ایک پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ صدر عون کے تبصروں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایران نے لبنان کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہو، لاکھوں لبنانیوں کو بے گھر کیا ہو اور روزانہ ملک پر بمباری کر رہا ہو۔
عباس عراقچی نے صدر عون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کو اس کے "حقیقی دشمن” سے بچانے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا اشارہ اسرائیل کی جانب تھا، جسے ایران خطے میں عدم استحکام کا بنیادی سبب قرار دیتا ہے۔
ایران، جو حزب اللہ کا اہم حامی سمجھا جاتا ہے، مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور استحکام کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں اسرائیلی کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ دوسری جانب لبنانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کو علاقائی طاقتوں کے تصادم سے دور رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جوزف عون، نواف سلام اور عباس عراقچی کے حالیہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ لبنان کے مستقبل، حزب اللہ کے کردار اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کے حوالے سے اختلافات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا جنگ بندی کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یا خطہ ایک بار پھر کشیدگی کے نئے دور میں داخل ہوتا ہے۔



