بین الاقوامی خبریںسرورق

ٹرمپ نے ایران کا افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی کا منصوبہ مسترد کر دیا

خطرات کے باعث ٹرمپ نے ایران میں فوجی آپریشن کی منظوری نہیں دی

واشنگٹن، 06 جون (ایجنسیاں): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے لیے امریکی فوج بھیجنے کی تجویز پر غور کیا تھا، تاہم بعد میں اسے مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی انتہائی خطرناک سمجھی گئی اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی درکار تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ آپریشن کو مکمل کرنے میں کم از کم دو ہفتے لگ سکتے تھے اور اس کے لیے بھاری مقدار میں فوجی سازوسامان ایران منتقل کرنا پڑتا۔ انہوں نے افزودہ یورینیم کو ’’جوہری گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی ماہرین نے اس مواد کو حاصل کرنے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا تھا۔

امریکی صدر کے مطابق انہوں نے اس منصوبے کو اس لیے ترک کیا کیونکہ خطرات بہت زیادہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ جوہری مواد اس وقت ایسی حالت میں ہے کہ فوری کارروائی کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ چاہے تو اب بھی یہ مواد حاصل کر سکتا ہے اور ایران اسے روک نہیں سکے گا، لیکن فی الحال اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی سمجھوتہ طے پا جاتا ہے تو ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقات کا امکان موجود ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی نمائندوں نے ٹینیسی میں جوہری ماہرین سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں تکنیکی امور کی تیاری مکمل کی جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایرانی تیل کی فروخت اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مستقبل سے متعلق امور پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم یورینیم کی افزودگی کی حدود، منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی اور مختلف شرائط پر اب بھی اختلافات برقرار ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ فریقین کسی حتمی معاہدے تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ ایران کے بعض ذرائع کے مطابق منجمد فنڈز کے معاملے پر تعطل برقرار ہے اور اب فیصلہ بڑی حد تک واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button